’لیہ میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، چھ شدت پسند ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی نے جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ میں ایک کارروائی کے دوران چھ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق محکمے کو مصدقہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ لیہ کے علاقے چوبارہ میں تحریکِ طالبان پاکستان اور القاعدہ سے منسلک سات سے آٹھ شدت پسند چھپے ہوئے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس اطلاع پر ملتان سے تعلق رکھنے والی سی ٹی ڈی کی ٹیم نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب شدت پسندوں کی کمین گاہ پر چھاپہ مارا تو ہتھیار ڈالنے کی بجائے شدت پسندوں نے فائرنگ شروع کر دی اور دستی بم پھینکے۔
شدت پسندوں کے حملے کے جواب میں پولیس کے اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی اور جب یہ سلسلہ تھما تو شدت پسندوں کے ٹھکانے سے چھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ یہ تمام شدت پسند اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے جبکہ دو شدت پسند رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
اس مقابلے میں کسی بھی پولیس اہلکار کو کسی قسم کی گزند پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق جائے وقوع پر موجود لاشوں کے قریب سے پولیس کو دو دستی بم، دس آٹومیٹک رائفلز، ایک پستول اور ایک ماؤزر ملا ہے۔
محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ لاہور کے علاقے گلشنِ اقبال میں دو ماہ قبل ہونے والے خودکش حملے کے بعد سے پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔
ان کارروائیوں کا مرکزی ہدف جنوبی پنجاب کا علاقہ رہا ہے جہاں سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں اب تک درجنوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں جن میں القاعدہ کے دو کمانڈر بھی شامل ہیں۔
ملاکنڈ سے اہم شدت پسند گرفتار
ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ملاکنڈ میں بھی انسداد دہشت گردی کے محکمے نے ایک اہم شدت پسند امان اللہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گرفتاری خوازہ خیلہ کے علاقے بیراڑی میں عمل میں آئی ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم امان اللہ سوات میں کشیدہ حالات کے دوران سکیورٹی فورسز پر دیگر شدت پسندوں کے ہمراہ باغ ڈھیری میں واقع سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر سنہ دو ہزار نو میں ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔
خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی فورس ، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی مشترکہ کارروائیوں میں متعدد شدت پسندوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔







