کراچی میں دھماکہ، چینی انجینیئر سمیت دو زخمی

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک دھماکے میں ایک چینی انجینیئر سمیت دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ قومی شاہراہ پر سٹیل ٹاؤن کے قریب پیر کی صبح تقریباً سوا نو بجے کے قریب پیش آیا ہے۔
پولیس کو جائے وقوع سے سندھی زبان میں تحریر کردہ ایک پمفلٹ ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے وسائل پر قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ بم گرین بیلٹ میں گملے کے ساتھ نصب کیا گیا تھا جیسے ہی چینی انجینیئر کی گاڑی قریب سے گزری تو دھماکہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مذکورہ انجینیئر، ڈرائیور سمیت زخمی ہوگیا۔
دھماکے کی شدت سے انجینیئر کی ویگن کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں زخمیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔
ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ چینی انجینیئر سٹیل ٹاؤن میں دیگر چینی شہریوں کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں اور انہیں پولیس سکواڈ فراہم کیا گیا ہے لیکن واقعے کے وقت وہ سکواڈ کے بغیر ہی سفر کر رہے تھے۔
انسداد دہشت گردی پولیس کے ایس پی مظہر مشوانی کا کہنا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرل بم تھا جس میں آدھ کلو گرام کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ دھماکے میں جیے سندھ شفیع برفت گروپ ملوث ہے تاہم ان کے مطابق تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی یہ گروہ ریلوے ٹریکس پر بم دھماکے کرتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری جانب جیے سندھ متحدہ محاذ نے ایس ایس پی راؤ انوار کے الزام کو مسترد کیا ہے۔
ایک اعلامیے میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری سجاد شر کا کہنا ہے کہ ان کا سیاسی موقف ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے ساتھ اور بذریعہ عوامی احتجاج ’سندھ دشمن منصوبوں‘ کو روکا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ ہی وجہ ہے کہ جام شورو اور بدین میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر چین راہدری منصوبے کے خلاف اپنا احتجاج رکارڈ کرایا
خیال رہے کہ رواں ماہ وزارت داخلہ کی جانب سے ایک ہدایت نامہ جای کیا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم جیے سندھ متحدہ محاذ چین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ رواں ماہ ہی نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک ہدایت نامے میں چین میں پاکستان کے سفیر کے خط کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شائع کی جا رہی ہے جس میں پاکستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف مختلف لوگوں کی طرف سے کیا جانے والا احتجاج دکھایا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق چین میں پاکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ مظاہرین کی اس تصویر کو چینی حکومت اور چینی عوامی کی طرف سے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے مظاہرے نہ ہوسکیں۔

جیے سندھ متحدہ محاذ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے خلاف 25 مئی سے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تھا۔ اس راہدری کا ایک حصہ صوبہ سندھ کی حدود سے بھی گزرتا ہے۔
یہ اعلان تحریک کے بانی جی ایم سید کی 21 ویں برسی پر منعقدہ جلسۂ عام کے موقعے پر کیا گیا تھا جس میں جئے سندھ متحدہ محاذ کے روپوش چیئرمین شفیع برفت نے آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ بلوچ اور سندھ کے سمندر پر ’چین کی بالادستی‘ قبول نہیں کی جائے گ
سندھ میں اس وقت چینی شہری توانائی کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں بن قاسم اور گھارو بجلی گھر کے علاوہ تھر میں کوئلے سے بجلی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
چینی شہریوں اور ان منصوبوں کی حفاظت کے لیے سندھ میں 200 اہلکاروں پر مشتمل خصوصی فورس بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔







