حکومت کا حزب اختلاف کے 15 نکات ماننے سے انکار

،تصویر کا ذریعہAFP

پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے ضوابط کار طے کرنے سے متعلق حکومت نے حزب مخالف کی طرف سے پیش کیے گئے 15 نکات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے 15 نکات پر قائم ہیں، تاہم اگر حکومت ان میں کوئی اضافہ کرنا چاہتی ہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔

جمعے کے روز ضوابط کار طے کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ڈیڈ لاک کی حالت ہے، جب کہ تحریکِ انصاف کے رہنما محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں معاملات ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے۔

چوہدری اعتزاز نے اس تاثر کو رد کیا کہ حزبِ اختلاف اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم 15 ضوابطِ کار پر مصر ہیں، اور ہم نے کسی وقت بھی وزیرِ اعظم کو استثنیٰ دینے کی بات نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کا نام ضوابطِ کار سے نکال بھی دیا جائے تب بھی وہ والد کے طور پر تفتیش کے دائرے میں آتے ہیں۔

چوہدری اعتزاز نے اس تاثر کو بھی رد کرنے کی کوشش کی کہ حزبِ اختلاف کے درمیان کسی قسم کا اختلاف ہے۔

اس موقعے پر محمود قریشی نے کہا کہ آج حکومت کے ساتھ بات چیت ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سپن ڈاکٹرنگ کے ذریعے مقاصد حاصل نہیں کر پائے گی اور اگر کوئی معاہدہ ہوا تو وہ کلیت میں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں اور قائم رہیں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے 24 مئی کو پاناما لیکس، کک بیکس اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے بارے میں ضابطہ کار طے کرنے کے لیے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کی تھی جسے ضوابطِ کار طے کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔

اس کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے چھ چھ ارکان شامل ہیں اور اس کا تیسرا اجلاس جمعے کو منعقد ہوا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

اس سے قبل اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ انھوں نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ ضوابطِ کار کے حوالے سے اگر اپوزیشن کے باقی نکات تسلیم کر لیے جائیں تو اسی صورت میں اپوزیشن وزیراعظم نواز شریف کا نام نکالنے کو تیار ہے لیکن اگر ان کے ٹی او آرز نہ مانے گئے تو پھر یہ پیشکش بھی نہیں رہےگی۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جمعے کو پارٹی کا مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے جس میں پانامالیکس کی تحقیقات میں وزیراعظم کا نام نکالنے سے متعلق حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کی طرف سے کی جانے والی پیشکش کا جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب حکومت نے پارلیمانی کمیٹی میں شامل اپنے چھ ارکان میں سے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا نام واپس لے کر اُن کی جگہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا نام شامل کیا ہے۔

اس سے پہلے زاہد حامد ضوابط کار طے کرنے والی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون کی حیثیت سے شرکت کرتے تھے جس پر حزب مخالف کی جماعتوں نے اعتراض کیا تھا۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کی طرف سے مطالبے کے بعد حکومت چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے پر تیار تو ہو گئی تھی لیکن اس معاملے پر تحقیقات کے لیے حکومت نے جو ضوابط کار تجویز کیے تھے ان کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔

اس کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی پاناما لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے حکومت کی طرف سے بھجوائے گئے ضوابط کار کے تحت عدالتی کمیشن تشکیل دینے سے معذوری ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ اس سلسلے میں جو ضوابطِ کار پیش کیے گئے ہیں وہ اتنے وسیع ہیں کہ بظاہر اس کے تحت کمیشن کو اپنی کارروائی مکمل کرنے میں کئی برس لگ جائیں گے۔