پاناما لیکس: ’حقائق چھپائے گئے تو احتجاج سڑکوں پر ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر پاناما لیکس کے معاملے پر سچ عوام کے سامنے نہ لایا گیا تو پھر اُن کی جماعت انصاف کے حصول کے لیے سڑکوں پر ہو گی۔
انھوں نے یہ بات بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے جواب میں اپنی تقریر میں کہی۔
دوسری جانب پامانا لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے اہم اجلاس سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں جاری ہے۔
یہ پارلیمانی کمیٹی پاناما لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیوں کی معلومات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے ضوابط کار مرتب کرے گی۔
اس اجلاس میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزرا اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور پرویز رشید شریک ہیں جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی خورشید شاہ، شاہ محمود قریشی، اعتزاز احسن اور غلام احمد بلور کر رہے ہیں۔
اس سے قبل قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاناما لیکس کے بارے میں وزیر اعظم سے جب بھی سوال پوچھا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ وہ کرپشن کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور اگر حقائق عوام کے سامنے نہیں لائے گئے تو وہ انصاف کے حصول کے لیے وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ متحدہ اپوزیشن میں شامل کسی بھی جماعت تاحال سڑکوں پر احتجاج کرنے کی کال نہیں دی ہے۔
حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں پر ہونے والے احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گے۔
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جمہوریت فوج اور پولیس سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ عوام کے ووٹوں سے مضبوط ہوتی ہے اور پانامالیکس کے بارے میں حقائق جاننا عوام کا حق ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ملک میں آمدن سے زیادہ بدعنوانی ہو رہی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو کے مطابق روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ پانامالیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں طوطامینا کی کہانی سنائی ہے اور حزب مخالف کو دیوار کے ساتھ لگانا ہے تو پھر پاکستان تحریک انصاف کے پاس سڑکوں پر آنے کے علاوہ شائد اور کوئی راستہ نہیں ہے۔







