پاناما لیکس: اپوزیشن پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت پر آمادہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں اپوزیشن نے پاناما لیکس کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی تجویز پر تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے منگل کو پارلیمان میں حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اپوزیشن تحقیقات کے معاملے پر حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم حکومت کی جانب سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔
* <link type="page"><caption> کرپشن کی تحقیقات، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160516_panam_nawaz_assembly_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے کرپشن کے تدارک کے لیے جس پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی بات کی ہے، حزبِ مخالف اس کے لیے اپنے نمائندے مقرر کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
نواز شریف نے پیر کو قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں سپیکر کو پاناما پیپرز کے سلسلے میں حزب اختلاف کی مشاورت سے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔
انھوں نے کہا تھا کہ یہ کمیٹی باہمی مشاورت کے بعد تحقیقات کے لیے ’ٹی او آرز‘ یا ضوابط کار بنائے اور جس فورم پر چاہیں تحقیقات کروا لی جائیں۔
خورشید شاہ نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے کارروائی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب پارلیمنٹ کے اندر ہی احتجاج کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’میاں نواز شریف بڑی دیر کے بعد ایوان میں آئے ہیں جبکہ حزب مخالف کی جماعتوں کا توگھر ہی پارلیمنٹ ہے اور وہ اپنے گھر سے کیسے دور رہ سکتے ہیں؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ان کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے جو سوالات پوچھے گئے ہیں انھیں اُن کا جواب دینا ہی ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہepa
سات سوال اب 70
پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیز اور اُن کے اثاثہ جات کے بارے میں پوچھے گئے سات سوالات کو پیر کو میاں نواز شریف کی تقریر کے بعد اب 70 سوالات میں تبدیل کردیا ہے۔
یہ سوالات حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تیار کیے گئے ہیں جن کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ہے۔
حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے آٹھ مختلف معلامات میں 70 سوالات کیے گئے ہیں اور وزیر اعظم سے کہا گیا ہے کہ وہ ان سوالات کا تفصیلی جواب دیں۔
جن آٹھ معاملات میں وزیر اعظم سے 70 سوالات کیے گئے ہیں اُن میں یہ پوچھا گیا ہے کہ شریف فیملی نے لندن میں پارک لین میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم بھجوانے کے لیے حوالہ اور ہنڈی کا استعمال کیا اور اس ضمن میں حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والے پشاور کے دو افراد نے بیانات بھی دیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ شریف فیملی لندن میں جائیداد خریدنے کے لیے پاکستانی کرنسی میں رقم بھجواتی تھی جنہیں بعد میں غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کیا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے علاوہ ان معاملات میں یہ بھی وزیر اعظم سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ سنہ 1988 سے لے کر سنہ 1991تک شریف فیملی نے ساڑھے چودہ کرروڑ روپے کی رقم ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی تھی۔
حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تیار کردہ سوالوں میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اُن چھ آف شور کمپنیز کے بارے میں بتائیں جو شریف فیملی کی ملکیت ہیں۔
وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ لندن میں خریدی گئی جائیداد جن میں پارک لین میں واقع لگژری اپارٹمنٹ کن میں 16، 16 اے، 17 اور 17اے شامل ہیں کیا وہ بھی ان آف شور کمپنیز کی ملکیت ہے۔
حزب مخالف کی جماعتوں سے طرف سے وزیر اعظم سے اُن بےنامی جائیداد کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا ہے جو اُن کے خاندان نے بیرون ملک بنائی ہیں جن کی مالیت اربوں روپے میں ہے۔
ان معاملات میں وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نے سنہ 1990 میں بطور وزیر اعظم فیصل بینک سے 3 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا اور قرضے کے حصول کے لیے میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔







