کرپشن کی تحقیقات: پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کرپشن کے تدارک کے لیے حزب اختلاف کی مشاورت سے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
نواز شریف نے کہاکہ یہ کمیٹی باہمی مشاورت کے بعد تحقیقات کے لیے ’ٹی او آرز‘ یا ضابط کار بنائے اور جس فورم پر چاہیں تحقیقات کرالی جائیں۔
انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے حکومت کو لکھے گئے خط کا قانونی مشیر جائزہ لے رہے ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے ایوان کے سامنے لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر سنائی اور اس دوران انھوں نے کئی جملوں کو دہرایا۔
پاناما لیکس کے بعد سب سے زیادہ تنازع کا باعث بننے والے لندن فلیٹس کے حوالے سے نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی کے یہ سنہ 2006 میں خریدے گئے تھے۔
نواز شریف نے بتایا کہ جدہ میں بنائی گئی سٹیل ملز اور پلاٹ جون 2005 میں ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی۔
نواز شریف نے کہا کہ یہ وہ ذرائع ہیں جن سے لندن کے فلیٹس خریدے گئے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سے ایک روپیہ بھی باہر نہیں گیا۔ نواز شریف نے یہ تاثر ذائل کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ لندن کے فلیٹس نوے کی دہائی سے ان کے استعمال میں رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز شریف نے اپنی تقریر میں ایک مرتبہ بھی اپوزیش کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا ذکر نہیں کیا اور اپوزیش کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ کاروبار سے سیاست میں آئے ہیں سیاست سے کاروبار نہیں بنایا۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو اپنی ذریعہ آمدن بتائیں جو آج کل جہازروں اور ہیلی کاپٹرز پر سفر کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے افراد یہ بھی بتائیں کہ سنہ1970 اور سنہ1980 کے دوران اُن کی مالی حالات کیا تھے۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے بطور وزیر اعلی متعدد فلاحی اداروں کو سرکاری زمین مفت آلاٹ کی جبکہ اپنے والد میاں شریف کے نام پر قائم ٹرسٹ اور اتفاق ہسپتال کے لیے زمین کی قیمت ادا کی گئی۔
واضح رہے کہ میاں نواز شریف نے عمران خان کو اپنی والدہ شوکت خانم کے نام پر کینسر ہسپتال بنانے کے لیے سرکاری زمین مفت فراہم کی تھی۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے گذشتہ 23سال کے دوران 3 کروڑ ساٹھ لاکھ روپے بطور ٹیکس ادا کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جدہ سٹیل ملز اور لندن کے فلائٹ خریدنے سے متعلق ایک روپیہ بھی پاکستان سے باہر نہیں بھجوایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کی بلاتاخیر اور جامع تحقیقات چاہتی ہے اور یہ معاملہ اب یوں ختم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بات چل نکلی ہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ایسے معاملات میں غیر ضروری تاخیر ملک کے مفاد میں نہیں۔
’ہم نہیں چاہتے کہ ملک کسی کشمکش کا شکار ہو اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے تماشا بنے۔ ہم کسی بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہتے۔ پاکستان کی انا کا پرچم بلند رکھنا چاہتے ہیں۔‘
* <link type="page"><caption> ’بچاؤ کا راستہ اپوزیشن اور حکومت کے اتفاق میں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160515_nawaz_panama_options_zz" platform="highweb"/></link>
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا دامن صاف ہے اور انھیں کسی آئینی اور قانونی استثنیٰ کی ضرورت نہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی احتسابی عمل کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔
اس سے قبل جب اجلاس شروع ہوا تو تلاوت قران پاک کے بعد اجلاس کی باقاعدہ کارروائی سے پہلے ایوان میں مشہور نعت ’یہ سب تمہارا کرم سے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے‘ پڑھی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل پارلیمان میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اجلاس سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کرکٹ کاؤنٹی کھیل کر لندن میں فلیٹ حاصل کیا تھا اور اسے بیچ کر بنی گالہ میں گھر بنایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں کرکٹ کریئر کے دوران بھارت سے سیریز اور عالمی کپ جیتنے پر حکومت کی جانب سے دو پلاٹ دیے گئے جو انھوں نے شوکت خاتم میموریل ہسپتال کو عطیہ کر دیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ توقع رکھتے ہیں وزیراعظم نواز شریف اسمبلی میں ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اپنی آف شور کمپنی کے بارے میں وضاحتی بیان دینا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتیں یہ اُمید کر رہی ہیں کہ میاں نواز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں سات سوالوں کے جواب دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک لیڈر پر جب کوئی بات آتی ہے تو وہ الٹا الزامات نہیں لگاتا بلکہ صفائی پیش کرتا ہے کیونکہ وہ عوام کو جواب دہ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو مخاطب کر کے کہا ’میں آج صفائی پیش کروں گا۔ جو جواب میں دوں گا وہ بھی وہی جواب دیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو اپنی تقریر کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں کے قائدین کی تقاریر سننی پڑیں گی اور پاناما لیکس کے بارے میں حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے متفقہ طور پر پوچھے گیے سات سوالوں کا جواب دیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا حکومتی خط کا جواب حزب مخالف کی جماعتوں کے موقف کی تائید ہے۔







