’حکومتی ضوابطِ کار کے تحت کمیشن نہیں بنایا جا سکتا‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پاناما لیکس کے معاملے پر تحقیقات کے لیے حکومت کی طرف سے بھجوائے گئے ضوابط کار کے تحت عدالتی کمیشن تشکیل دینے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔
حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے تحریر کردہ خط کے جواب میں جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جو ضوابطِ کار پیش کیے گئے ہیں وہ اتنے وسیع ہیں کہ بظاہر اس کے تحت کمیشن کو اپنی کارروائی مکمل کرنے میں کئی برس لگ جائیں گے۔
چیف جسٹس نے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1956 کے تحت محدود دائرہ کار میں اگر کمیشن تشکیل دیا گیا تو وہ ایک بےاثر کمیشن ہوگا جس سے مقصد حاصل نہ ہو پائے گا اور نام خراب ہوگا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ کمیشن تشکیل دینے کے حوالے سے کسی فیصلے پر پہنچنے سے قبل ضروری ہے کہ جن افراد، خاندانوں، گروپوں، کمپنیوں وغیرہ کے بارے میں تحقیقات کے لیے کہا گیا ہے ان کی متعلقہ معلومات اور کل تعداد مہیا کی جائے۔
چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی طرف سے لکھے گئے خط کے مطابق جب تک یہ معلومات اور تفصیلات مہیا نہیں کی جاتیں اور کسی مناسب قانون کے تحت کمیشن کی تشکیل کے معاملے پر ازسرِنو غور نہیں کیا جاتا تب تک حکومت کے خط کا کوئی حتمی جواب نہیں دیا جا سکتا۔
وزارت قانون کے ایک اہلکار کے مطابق چیف جسٹس کی طرف سے لکھے گئے خط کی کاپی حکومتی عہدیداران کو بھجوا دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت چیف جسٹس کے اس خط کا جواب دے گی۔
حزب مخالف کی جماعتوں نے چیف جسٹس کے خط کو اپنے موقف کی تائید قرار دیا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ کسی ملزم کے خلاف تحقیقات اس (ملزم) کے ضوابط کار کے تحت نہیں کی جاسکتی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی طرف سے حکومتی خط کا جواب دیے جانے کے بعد حکومت کے پاس حزب مخالف کی جماعتوں کے ساتھ مل کر متفقہ ضوابط کار طے کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
حکومتِ پاکستان نے تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو خط گذشتہ ماہ اس وقت ارسال کیا تھا جب وہ ترکی کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے اور عام خیال یہ ہی تھا کہ چیف جسٹس ترکی سے واپسی پر حکومتی خط کا جائزہ لیں گے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن کی طرف سے مطالبے کے بعد حکومت چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے پر تیار تو ہو گئی تھی لیکن اس معاملے پر تحقیقات کے لیے حکومت نے جو ضوابط کار تجویز کیے تھے ان کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔
وزیرِ اعظم نواز شریف اس معاملے پر پیر کو قومی اسمبلی میں آ کر پالیسی بیان بھی دینے والے ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ان کے سامنے رکھے گئے سات سوالوں کے جواب میں حکومت نے بھی اپوزیشن سے سات سوال کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ ماہ پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے ملنے والی خفیہ دستاویزات میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بچوں کی کاروباری کپمنیوں اور جائیداد کا انکشاف ہونے کے بعد سے حکومتِ پاکستان پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ سارے معاملے کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں۔
پامانا لیکس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیرِ اعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں اپنے خاندان پر لگے الزامات کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سے کروانے کا اعلان کیا تھا۔
لیکن حزبِ اختلاف کی جماعتوں خصوصاً پاکستان تحریکِ انصاف نے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مطالبہ تھا کہ وزیرِ اعظم کے خاندان کے بیرونِ ملک میں موجود کاروبار کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے۔
حکومت نے حزبِ اختلاف کے اس مطالبے کو اس وقت مسترد کر دیا تھا اور اس کا اصرار تھا کہ تحقیقات ریٹائرڈ جج سے ہی کروائی جائیں گی۔
دو سال قبل تحریکِ انصاف کے اسلام آباد میں سنہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنے کے بعد جو عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا اس کے لیے حکومت نے خصوصی طور پر ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا۔
اس کمیشن کے ضوابط کار بھی تحریک انصاف کے ساتھ مشاورت کے بعد بنائے گئے تھے اور اس مرتبہ بھی حزب مخالف کی جماعتیں اسی طریقے سے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔







