پاناما لیکس کے بعد اشتہار، اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کا نام مبینہ طور پر کلیئر ہونے پر مختلف اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز پر سرکاری اشتہارات دینے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس اور تحریک التوا جمع کروائی ہے۔
یہ تحاریک قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہیں۔
قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین سید نوید قمر، عمران ظفر لغاری، سید مصطفیٰ شاہ اور شازیہ مری نے قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا۔
اس توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کی ذات سے متعلق وضاحت کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کروڑوں روپے کے اشتہارات دیے ہیں۔ ان اشتہارات کی ادائیگی قومی خزانے سے کی جائے گی۔
توجہ دلاو نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات ایوان میں آکر وضاحت دیں۔
دوسری جانب صوبہ پنجاب میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرائی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مختلف اخبارات میں یہ اشتہارات صفحہ اول پر دیے گئے ہیں جن کی نرخ دوسرے صفحوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے رہنما اور قائد حزب اختلاف محمود الرشید کی طرف سے دائر کی گئی تحریک التوا میں کہا گیا ہے حکمراں انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کا پیسہ اپنی ذاتی تشہیر کے لیے لگا رہے ہیں جو کہ قومی خزانے کو ضائع کرنے کے مترداف ہے۔
تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ ذاتی تشہیر کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے اس معاملے پر ایوان میں کھل کر بحث کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریک التوا میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اربوں روپے لگا کر ذاتی تشہیر کی جا رہی ہے اور اس کا احتساب ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ آف شور کمپنیز سے متعلق پاناما لیکس کے ذمہ داران کی طرف سے یہ بیان جاری ہوا تھا کہ آف شور کمپنیوں میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی کوئی کمپنی نہیں ہے بلکہ یہ کمپنیاں اُن کے بچوں کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس بیان کے بعد حکمراں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے سرکاری خزانے سے پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا پر اشتہارات چھپوائے۔
پاناما لیکس میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے سے متعلق حزب مخالف کی جماعتوں کا اجلاس دو مئی کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔
اس اجلاس میں پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے خاندان کی تحقیقات سے متعلق مشترکہ ضابطہ کار طے کرنے سے متعلق حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا اس اجلاس میں شرکت کے امکانات بہت کم ہیں۔







