بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی حکومت نے پاناما لیکس، کک بیکس اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے بارے میں ضابطہ کار طے کرنے کے لیے بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور حزب اختلاف کے چھ چھ ارکان ہوں گے۔
٭ <link type="page"><caption> ایک ایسا ادارہ بنائیں جو سب پر نظر رکھے: محمود اچکزئی</caption><url href="www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160519_panama_leaks_assembly_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
حکومت کی طرف سے جو چھ نام قومی اسمبلی کے سپیکر اور سینیٹ کو بھجوائے گیے تھے اُن میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمان، ہاؤسنگ اور تعمیرات کے وفاقی وزیر اکرم درانی اور وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ حاصل بزنجو شامل ہیں۔
حزب مخالف کی طرف سے جن چھ ناموں کی حتمی منظوری دی گئی تھی ان میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن، پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، عوامی نینشل پارٹی کے سینیٹر الیاس بلور، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، پاکستان مسلم لیگ قاف کے طارق بشیر چیمہ اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف کا نام قومی وطن پارٹی کے رہنما آفتاب شیرپاؤ کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔
اس پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کے روز قومی اسمبلی کے سپیکر کے چیمبر میں ہوگا۔
اس کمیٹی کو دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے اور اس عرصے کے دوران وہ ان معاملات کی تحقیقات کے لیے ضوابط کار طے کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے اس وقت سینیٹ کی اجلاس کی کارروائی سے اُٹھ کر چلے گئے تھے جب پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی جارہی تھی۔
چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ وزارت پارلیمانی امور نے اس ضمن میں اُنھیں اعتماد میں نہیں لیا۔







