افغان مصالحتی عمل: ’سیاسی تصفیے کے لیے امن مذاکرات ہی واحد آپشن‘

افغان سفیر ڈاکٹر زاخیلوال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بات چیت سے ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنافغان سفیر ڈاکٹر زاخیلوال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بات چیت سے ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہے

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی رابطہ گروپ کے اجلاس میں اس عزم کو دہرایا گیا ہے کہ سیاسی تصفیے کے لیے امن مذاکرات ہی واحد حل ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں مصالحتی عمل کے سلسلے کے پانچویں اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے ارکان متفق ہیں کہ تشدد کا کوئی فائدہ نہیں اور امن مذاکرات کے سلسلے میں کیو سی جی میں شامل ممالک اپنا اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔

٭ <link type="page"><caption> افغانستان پر چار ملکی گروپ ناکام ہو رہا ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160513_qcg_pak_afghan_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> افغان مصالحتی عمل بحال ہونے کا امکان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160516_pak_afghan_nj.shtml" platform="highweb"/></link>

اس چار ملکی مصالحتی عمل میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری جبکہ افغان وفد کی قیادت اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال نے کی۔

ان کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن اور افغان امور کے لیے چین کے خصوصی نمائندے ڈینگ شی جن بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔

پاکستانی دفترِ حارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چار ملکی رابطہ گروپ نے 19 اپریل کو کابل میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کے واقعات میں ملوث عناصر کو اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

چار ملکی مصالحتی گروپ کا یہ پانچواں اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان صدر نے کابل میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد کہا تھا کہ وہ پاکستان سے اس بات کی توقع نہیں رکھتے کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔

اجلاس سے قبل اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر زاخیلوال نے بی بی سی پشتو سروس کے خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب چونکہ طالبان نے مذاکرات کی بجائے جنگ کو ترجیح دی ہے اور موسم بہار کی آمد پر تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع کر لیا ہے تو اس اجلاس میں اُن اقدامات پر بحث ہو گی کہ افغان طالبان کے مذاکرات سے انکار کے بعد پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔

پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کریں گے، جبکہ افغان وفد کی قیادت اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال کریں گے (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہG

،تصویر کا کیپشنپاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کریں گے، جبکہ افغان وفد کی قیادت اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال کریں گے (فائل فوٹو)

تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

افغان مصالحتی عمل کا باقاعدہ آغاز گذشتہ سال ہوا تھا لیکن طالبان کے اُس وقت کے سربراہ ملا عمر کی موت کے بعد یہ عمل التوا کا شکار ہو گیا تھا۔

رواں سال جنوری میں ایک بار پھر چار ملکی افغان مصالحتی عمل کا آغاز اسلام آباد سے ہوا جس کے اب تک چار اجلاس ہو چکے ہیں۔ ان میں سے دو اجلاس اسلام آباد میں اور دو افغان دارالحکومت کابل میں ہوئے ہیں۔

بعض تجزیہ نگار چار ملکی مصالحتی عمل کے اس پانچویں اجلاس کو فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں کیوں کہ ان کے بقول اگر کابل کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کے مطالبے پر پاکستان نے کوئی یقین نہیں دلایا تو یہ مصالحتی عمل ایک بار پھر التوا کا شکار ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ کچھ ہفتے پہلے ہی افغان طالبان کے قطر دفتر کا ایک وفد پاکستان آیا تھا۔ تاہم کابل میں گذشتہ ماہ ہونے والے خودکش حملے کے فوراً بعد افغان عوام کے دباؤ کے بعد افغان حکام نے مذاکرات کے اس عمل سے ناامیدی کا اظہار کیا تھا۔

امریکہ نے بھی کابل کے اس حملے کے بعد پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔