حکمت یار افغان حکومت سےمعاہدے کےلیے بے چین

،تصویر کا ذریعہAFP
کابل کی حکومت کو ماضی میں کبھی باغی جنگجو رہنما گلبدین حکمت یار سے مصالحت کی اتنی امید نہیں تھی جتنی اب ہے۔
لیکن یہ تشویش اپنی جگہ برقرار ہے کہ اس کمزور اور بڑی حد تک غیر موثر جنگجو رہنما کو جو اپنے اتحادی جلدی جلدی تبدیل کرنے کی شہرت رکھتا ہے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے مراعات دینے سود مند ثابت ہوگا کہ نہیں۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اس بات کے واضح اشارے موصول ہو رہے ہیں کہ گلبدین آئندہ انتخابات سےقبل اپنے منقسم دھڑے پر ایک مرتبہ پھر اپنی دسترس مضبوط کرنے کے لیے کابل حکومت سے کسی مصالحت پر پہنچنے کے لیے بے قرار ہے۔
گلبدین حکمت یار کے صاحبزادے حبیب الرحمان نے گیارہ مئی کو فیس بک پر ایک پیغام میں کہا کہ حزب اسلامی اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں اور حتمی مسودہ حکمت یار کو پیش کیے جانے کے لیے تیار ہے۔
حزب اسلامی سے جاری امن مذاکرات میں شریک افغان حکومتی اہلکاروں کا بھی یہ کہنا ہے کہ امن معاہدہ ہونے کو ہے۔ افغان امن کونسل کے نائب عطا سلیم کا کہنا ہے کہ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور معاہدہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔
حکمت یار تیز و تند بیانات دینے کے بارے میں مشہور ہیں لیکن وہ ایک عرصے سے اس کوشش میں ہیں کہ کسی مناسب وقت پر مرکزی دہارے میں شامل ہو جائیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے اس بات کے بھی اشارے دیے ہیں کہ وہ غیر ملکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کو بھی تسلیم کر لیں گے جس کو وہ ماضی قریب تک ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکمت یار ایک زمانے میں بڑے موثر اور طاقت ور رہنما تصور کیے جاتے تھے لیکن سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنی طاقت برقرار نہیں رکھے سکے اور قابل ذکر حد تک غیر موثر ہو گئے۔ ان کے بہت سے اتحادیوں نے یا تو ہتھیار ڈالے دیے ہیں یا انھوں نے سرکاری منصب قبول کر لیے ہیں۔
ان کے اپنے داماد ہمایوں جریر اور ایک طویل عرصے تک سیاسی کمیٹی میں معتمد خاص رہنے والے قطب الدین ہلال اب صدر غنی کے مشیروں میں شامل ہیں۔
تنہائی کا شکار جنگجو رہنما کو اب یہ احساس ہو گیا ہے کہ حکومت سے معاہدہ کرنا کا یہ انتہائی مناسب موقع ہے جب طالبان اب بھی حکومت کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل ہیں۔ اگر اس سال موسم خزاں میں جب لڑائی کا موسم ختم ہو جاتا ہے طالبان حکومت کے ساتھ کسی سنجیدہ اور با معنی مذاکرات کے لیے تیار ہوتے ہیں تو اس وقت حکومت کو گلبدین سے مذاکرات کرنے میں زیادہ دلچسپی برقرار نہیں رہے گی۔
اس سال پارلیمان اور ضلعی کونسل کے انتخابات سے قبل گلبدین حکمت یار اپنے گروپ میں شامل مختلف دھڑوں کو یکجا کرنے چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ حکومت سے معاہدہ کر کے اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔
افغان لوئی جرگہ کے لیے انتخابات کا ہونا ضروری ہے اور لوئی جرگہ ہی افغانستان کے سیاسی نظام کا تعین کر سکتا ہے۔
لیکن حکمت یار کے رویے سے آشنا لوگوں کا خیال ہے کہ ان کو رعایتیں دینا درست نہیں ہے اور وہ حکومت کے لیے ایک سیاسی بوجھ بن سکتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں افغان صحافی مجیب مشعل نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اتحاد توڑنے کی شہرت رکھنے والے حکمت یار حکومت کے لیے ایک درد سر بھی بن سکتے ہیں۔
ایک اور افغان مبصر کا خیال ہے کہ حکمت یار بقائے باہمی اور سیاسی تنوع کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔
صبور شکیل نے کہا کہ حکمت یار کی کابل واپسی دو چیزوں پر منتج ہو سکتی ہے۔ یا تو وہ ایک مرتبہ پھر اندورنی جھگڑوں اور لڑائی میں الجھ کر واپس ہمسایہ ملک میں اپنی کمیں گاہ لوٹ جائیں اور یا کابل کے نئے سیاسی ماحول سے اپنے آپ کو مانوس نہ کر پائیں اور مایوسی کا شکار ہو جائیں۔







