اچھا ہوگا عدلیہ اپنے آپ کو ابھی دور رکھے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ایک ایسے وقت جب حکومت اور حزب اختلاف ساس بہو کی طرح پاناما پیپرز پر ایک دوسرے کے بال نوچ رہے ہیں، میڈیا خصوصاً ٹاک شوز کا بھاؤ چڑھا ہوا ہے اور سیاست دانوں کو ہر دم میڈیا پر چھائے رہنے کا بہانہ مل گیا ہے، تو شاید بہتر ہوتا کہ اس لڑائی کا کوئی فیصلہ ہونے تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حکومت کو جوابی خط نہ لکھتے۔
پہلے حکومت اور اپوزیشن کو ٹی او آرز پر مرغے لڑا لینے دیتے اور دونوں کے درمیان کچھ طے پا جاتا، ضوابطِ کار کا سرکش اونٹ کسی حتمی کروٹ بیٹھ جاتا، پھر چیف جسٹس اپنی رائے دیتے تو زیادہ بہتر تھا۔
ابھی اگرچہ ایک صفحے کے مختصر بیان میں انھوں نے اپنی سرکاری ذمہ داری نبھائی ہے لیکن اس گرما گرم میدان جنگ میں امکان ہے کہ شاید ان کے بیان کو بھی کوئی کان سے اور کوئی ناک سے پکڑ کر توڑ موڑ کر اپنے ایجنڈے کے مطابق پیش کر سکتا ہے۔
حزب اختلاف کے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو ہم بھی حکومت سے کہہ رہے تھے کہ جس عرصہ دراز کے لیے وہ تفتیش کروانا چاہتی ہے اس میں تو کئی نسلیں لگ سکتی ہیں۔ اس کے دائرہ وقت کو مختصر کیا جائے۔
حکومت نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی جو درخواست 22 اپریل کو چیف جسٹس کو ارسال کی تھی اس کو تین ہفتے گزر چکے ہیں۔ شاید اس سے زیادہ خاموشی اور جائزہ لینے کا وقت عدالت عظمیٰ کے لیے مناسب نہیں تھا۔ ایک ہفتہ چیف جسٹس بیرون ملک دورے پر چلے گئے اور واپس آنے کی بعد بھی انھوں نے دو ہفتے انتظار کیا۔
لیکن لگتا ہے کہ باقی 20 کروڑ پاکستانیوں کی طرح ان کو بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا کہ نہ تو حکومت اور نہ حزب اختلاف کو اس معاملے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی جلدی ہے۔ دونوں اپنے اپنے موقف اور تیار کیے گئے ضابطوں پر اڑے ہوئے ہیں۔ اس کا جلد کچھ ہونا نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
وزیر اعظم نے تاجکستان سے واپسی پر بیان دیا کہ وہ پارلیمان میں صرف اتنی بات کریں گے جو ایوان میں ہونی چاہیے اور جو بات عدالتی کمیشن کے سامنے ہونی چاہیے وہ وہ وہاں کریں گے۔
اس کی تشریح کچھ ایسے کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں کی تفصیل وغیرہ ایوان کے سامنے رکھنے والے نہیں ہیں۔ ان کا بیان محض سیاسی بیان ہی ہو گا۔ قوم سے دو مرتبہ خطاب ٹائپ تقریر ہی ہو گی۔
جہاں تک بات ہے چیف جسٹس کے جواب کی تو انھوں نے حکومتی درخواست مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کی ہے۔
ان کا اصرار ہے کہ جن جن کی تحقیقات کرنی ہے ان کی معلومات دیں پھر وہ فیصلہ کریں گے کہ کمیشن قائم کیا جائے یا نہیں۔ اسی پر تو حکومت اور حزب اختلاف نے سینگ پھنسا رکھے ہیں۔
جب تک یہ سینگ نہیں کھلتے، اس وقت تک عدلیہ خود کو اس معاملے سے دور ہی رکھے تو اچھا ہے۔







