’سوالوں کے جواب نہ ملے تو اگلی حکمتِ عملی پیر کو طے ہو گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty

    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے جمعے کو پارلیمان میں طے شدہ پالیسی بیان ملتوی ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر وزیر اعظم پیر کو سات سوالوں کے جواب نہ لے کر آئے تو اگلی حکمت عملی اسی دن طے ہوگی۔

وزیر اعظم کی پارلیمان میں غیر حاضری پر حزب اختلاف کا دونوں ایوانوں سے بائیکاٹ چوتھے دن بھی جاری ہے۔

اس بات کا فیصلہ جمعے کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی سربراہی میں ایک اجلاس کے دوران کیا گیا۔

اجلاس میں شاہ محمد قریشی، جہانگیر ترین، شیریں مزاری، شیخ رشید، غلام احمد بلور، نوید قمر اور دیگر رہنما شامل تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا: ’وزیر اعظم نواز شریف پیر کو پارلیمان آئیں تو سات سوالوں کا جواب لے کر آئیں کیونکہ اس کے بغیر اجلاس بے معنی ہو گا۔ اگر ہمیں جوابات نہیں ملے تو اگلی حکمت عملی کا اعلان پیر کو ہی کریں گے۔‘

اعتراز احسن نے جمعے کو وزیر اعظم کی پارلیمان آمد ملتوی ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں توقع تھی کہ آج وزیر اعظم پارلیمان میں آ کر ہمارے سات سوالوں کے جواب دیں گے مگر انھوں نے کل شام کو اپنا ارادہ بدل لیا، انھیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ اس گلی میں نہ جاؤ ورنہ پھنس جاؤ گے۔‘

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے مطابق ’بدقسمتی یا خوش قسمتی سے حکومتی حلقوں میں اتنی حوصلہ شکنی نظر آ رہی ہے کہ آج چوتھا دن ہے اور حکومت قومی اسمبلی میں اپنا کورم پورا نہیں کر سکی حالانکہ یہ اجلاس وزیر اعظم سے جڑا ہے۔ وزرا بھی وزیر اعظم کا دفاع نہیں کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات بھی بیک فُٹ پر چلے گئے ہیں۔‘

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمد قریشی کا کہنا تھا کہ سینیٹر اعتزاز احسن نے بڑی تفصیل سے حزب اختلاف کا موقف پیش کر دیا ہے۔

اس موقعے پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سات سوالوں کا تفصیل سے جواب دیں اور جوڈیشل کمیشن میں ان کے طے کردہ ضوابطِ کار کے مطابق ہی کارروائی ہو۔

حزب اختلاف کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نواز شریف پارلیمان میں اپنے خطاب کے بعد باقی رہنماؤں کی بات بھی سنیں اور ان کے سوالوں کا جواب دیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز تاجکستان سے وطن واپسی پر پاناما کمیشن کے حوالے سے وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سیاست دان کمیشن بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ کمیشن کی باتیں کمیشن میں اور پارلیمان کی باتیں پارلیمان میں ہوں گی۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف کی پارلیمان میں غیر حاضری پر حزب اختلاف کے جانب سے دونوں ایوانوں کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا تھا کہ وزیر اعظم جمعے کو پارلیمان سے خطاب کریں گے، تاہم گذشتہ رات قومی اسمبلی کے سپیکر نے مطلع کیا کہ وزیر اعظم کا پالیسی بیان پیر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔