’وزیراعظم کے بعد اپوزیشن کو بھی تقاریر کی اجازت دیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے 13 مئی کو وزیر اعظم کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں ممکنہ آمد اور پاناما لیکس سے متعلق وزیر اعظم کے خطاب کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں کو بھی تقریر کرنے کا موقع دینے کے لیے قومی اسمبلی کے سپیکر سے رابطہ کیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں نے جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور کہا کہ جب تک وزیر اعظم ایوان میں نہیں آتے اس وقت تک اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کی سربراہی میں حزب مخالف کی جماعتوں کے ایک تین رکنی وفد نے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں پاناما لیکس کے بارے میں حزب مخالف کی طرف سے پوچھے گئے سات سوالات سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کیے۔

سپیکر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس تین رکنی وفد کے رکن اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی پر واضح کیا ہے کہ حزب مخالف کی جماعتیں ایوان کے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لیے اگر وزیر اعظم پاناما لیکس کے بارے میں اپوزیشن کے ان سات سوالوں کا جواب دیتے ہیں تو پھر حزب مخالف کی جماعتوں کے اراکین کو بھی تقاریر کرنے کا موقع دیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ پارلیمانی طرز جمہوریت میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے پاس لامحدود اختیارات ہیں اور ایوان کے ماحول کو بہتر رکھنے کی ذمہ داری حکومت کے ساتھ ساتھ ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے سپیکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے پر وزیر اعظم کو ایوان سے نکال دیا تھا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حزب مخالف کی جماعتیں خود کو محض ان سات سوالوں تک ہی محدود نہیں رکھیں گی بلکہ بہت سارے ضمنی سوالات بھی ہو سکتے ہیں جن کا جواب وزیر اعظم کو دینا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے سامنے بھی وزیر اعظم کو محض سات نہیں بلکہ سات سو سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔

دوسری جانب پاناما لیکس کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔