قصور کے بعد سوات: ’بچوں کی ویڈیوز بنانے والا گینگ گرفتار‘

پولیس کے مطابق مذکورہ چودہ سالہ لڑکا اٹھائیس ستمبر دوہزار چودہ کو لاپتہ ہوا تھا اور اس کے والد نےگمشدگی کے رپورٹ درج کراوائی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق مذکورہ چودہ سالہ لڑکا اٹھائیس ستمبر دوہزار چودہ کو لاپتہ ہوا تھا اور اس کے والد نےگمشدگی کے رپورٹ درج کراوائی تھی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے بچوں کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے والے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے ملزمان کے نام اورنگزیب عرف رنگے، عمر خالق عرف نواب اور سجاد بتائے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ تینوں افراد بچوں کو اغوا کرنے کے بعد انھیں زبردستی جنسی عمل پر مجبور کرتے اور اس دوران ان کی ویڈیوز اور تصاویر بناتے تھے۔

سوات سے صحافی انور شاہ کے مطابق ملزمان سے ملنے والی ویڈیوز کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ ان میں 17 سے زائد ایسے بچے دیکھے جا سکتے ہیں جن کی عمریں 14 سال سے کم ہیں۔

ان میں سے بعض لڑکوں کو لڑکیوں کے ملبوسات اور زیر جامے پہنائے گئے ہیں جبکہ کچھ بچوں کے ہاتھوں میں ہزاروں روپے کے نوٹوں کے بنڈل بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

تھانہ مینگورہ کے ایس ایچ او اختر ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ گینگ کے سرغنہ اورنگزیب عرف رنگے کو ایک 14 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ملزم کی رہائش گاہ سے ہتھکڑیاں اور زنجیریں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس کے مطابق مذکورہ لڑکا 28 ستمبر 2014 کو لاپتہ ہوا تھا اور اس کے والد نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کراوائی تھی۔

بازیاب ہونے والے لڑکے کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ملزم روزانہ اس کے ساتھ زیادتی کرتا رہا۔

سوات کے ضلعی پولیس افسر سلیم مروت نے ڈی ایس پی صدیق اکبر کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو مبینہ طور پر ملزم اورنگزیب کی تصاویر اور ویڈیوز کی تحقیقات کرے گی۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیےکام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سپارک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 میں روزانہ اوسطاً دس بچوں کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔

اس رپورٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے خبروں، حکومتی اداروں اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ سنہ 2015 میں 3,768 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔

پاکستان کی سینیٹ نے حال ہی میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم کا بل منظور کیا ہے جس کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی عمل، ان کا استحصال، بچوں کی فحش مواد کی تیاری و اشاعت اور بچوں کے اندرون ملک تجارت کو قابل سزا جرم قرار دیاگیا ہے۔ اس کے مطابق ایسے مجرمان کو سات سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔