لاہور:بچی سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج

لاہور میں پانچ سالہ بچی سے زیادتی کے کیس میں پولیس نے مغلپورہ کے علاقے سے پانچ مشتبہ افراد کوگرفتار کر کے ان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔
مغلپورہ کی رہائشی پانچ سالہ بچی کو رات مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گنگارام ہسپتال کے باہر پھینک دیا گیا تھا۔ بچی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق رات نو بجے کے قریب گنگارام ہسپتال کی پارکنگ لاٹ میں ایک سکیورٹی گارڈ نے بچی کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھا اور اسے اٹھا کر ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے آیا۔ میڈیا پر یہ خبر نشر ہونے کے بعد بچی کے لواحقین ہسپتال پہنچ گئے۔
بچی کے والد واپڈا میں ملازم ہیں اور لاہور کے علاقے مغلپورہ کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچی اپنے تین سالہ کزن کے ہمراہ گھر کے باہر کھیلنے نکلی اور شام ساڑھے پانچ بجےسے غائب تھی۔ کئی گھنٹے تلاش کے بعد رات ایک بجے انھوں نے تھانے میں بچی کی گمشدگی کی رپورٹ بھی لکھوائی۔
انھوں نے کہا: ’تین بجے کے قریب ہم نے ٹی وی پر پٹی چلتی دیکھی تو ہم گنگارام ہسپتال پہنچے اور ہم نے اپنی بچی کو شناخت کیا۔ اس کی حالت اچھی نہیں تھی وہ بے ہوش تھی پھر اسے سروسز ہسپتال لے آئے جہاں اس کا آپریشن ہوا ہے۔’
سول لائنز ڈویژن کے ایس پی معروف صفدر واہلہ کہتے ہیں: ’اغوا اور ریپ کی دفعات کے تحت بچی کے والد شفقت اقبال کے مدعیت میں ہم نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔’
بچی کے ساتھ اغوا ہونے والا تین سالہ بچہ احمد یار بھی گنگارام ہسپتال کی پارکنگ سے بازیاب ہوچکا ہے۔
گنگارام ہسپتال میں پیڈایٹرک سرجری کی سہولت موجود نہ ہونے کے باعث بچی کو سروسز ہپستال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر طارق لطیف نے بچی کا آپریشن کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کو ڈاکٹر طارق نے بتایا کہ ’بچی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ وہ جسمانی طور پر تو مستحکم ہے لیکن نفسیاتی طور پر بہت متاثر ہے۔ میں ابھی اس کا آپریشن کر کے فارغ ہوا ہوں اور فی الوقت وہ ہوش میں نہیں۔ جسمانی طور پر تو وہ جلد صحت یاب ہوجائے گی لیکن ظاہر ہے ذہنی طور پر اس کی اذیت کم ہونے میں وقت لگے گا۔‘
چند روز پہلے لاہور میں سلامت پورہ کے رہائشی ایک رکشہ ڈرائیور محمد عمر نے مبینہ طور پر اپنی تین سالہ بچی کو دریائے راوی میں پھینک دیا تھا۔ عمر کی بیوی سمیرا بی بی نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس کے شوہر کو بیٹے کی خواہش تھی اور بیٹا نہ ہونے پر وہ ناخوش تھا اس لیے اس نے بیٹی کو دریا میں پھینک دیا۔
محمد عمر اس وقت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہے، اور بیٹا نہ ہونے پر اپنی بچی کو دریا میں پھینکنے کا اعتراف کرچکا ہے۔
اس کے علاوہ حال ہی میں لاہور کے نواحی علاقے شیخوپورہ میں گجرانوالہ روڈ کے ریلوے کراسنگ پر کوئی نامعلوم شخص دو نومولو بچیوں کو چھوڑنے کا واقعہ بھی ذرائعِ ابلاغ پر نشر ہو چکا ہے۔







