خواتین کے لیے ’واؤ‘

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ نے ایک پینل گفتگو کے دوران کہا کہ ہمیں اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرنا ہوگا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ نے ایک پینل گفتگو کے دوران کہا کہ ہمیں اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرنا ہوگا
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اتوار کو پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں خواتین کے ایک روزہ عالمی میلے یعنی ’وومن آف دا ورلڈ ‘ یا ’واؤ‘ کے انعقاد ہوا جس میں ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اس میلے میں خواتین کی جانب سے مختلف مصنوعات کے اسٹالز سجائے گئے تھے جبکہ خواتین کو درپیش مسائل سے نمٹنے اور بہتر معاشی مواقع کے حصول کے لیے ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔

اس ضمن میں خواتین کی جانب سے تیار کی گئی اشیا کی نمائش کے اسٹالز بھی لگائے گئے۔

اس سلسلے میں کھانے پینے کی اشیا کے بھی اسٹالز لگائے گئے تھے جہاں ایک گوشے کو ’بہن چارہ کارنر‘ کا نام دیا گیا تھا جہاں چائے اور کچھ دیگر کھانے کی اشیا موجود تھی۔

یہ میلہ جنوبی ایشیاء میں خواتین کی جانب سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو سراہنے اور انہیں سب سے سامنے لانے کا ذریعہ ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیہ میلہ جنوبی ایشیاء میں خواتین کی جانب سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو سراہنے اور انہیں سب سے سامنے لانے کا ذریعہ ہے

اس میلے کا آغاز 2011 میں لندن کے ساؤتھ بینک سینٹر میں وہاں کے ڈائریکٹر جوڈ کیلی نے کیا تھا جو اب پانچ برِاعظموں میں ہر سال منعقد کیا جاتا ہے اور تقریبًا َ دس لاکھ سے زائد خواتین اس میں شرکت کرتی ہیں جس سے یہ دنیا بھر میں خواتین کا سب سے بڑا میلہ بن چکا ہے۔

جنوبی ایشیا میں اس میلے کا پہلی مرتبہ انعقاد پاکستان سے ہوا ہے جس کے لیے برٹش کونسل پاکستان نے تعاون کیا تھا۔

برٹش کونسل نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان صنفی تفریق کو کم کرنے کے لیے وہ اس میلے کو ہر سال منعقد کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ صنفی امتیاز کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر 145 ممالک میں 144 ہے جبکہ خواتین کو حاصل مواقعوں میں 143 اور حصولِ تعلیم میں 135 ہے۔

اس موقع پر جوڈ کیلی نے کہا کہ برطانیہ جیسے ملک میں بھی خواتین کو کئی شعبوں میں مردوں کی نسبت کم تنخواہ دی جاتی ہے اگرچہ اس ضمن میں قانون 1980 میں پاس ہوچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ میلہ جنوبی ایشیا میں خواتین کی جانب سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو سراہنے اور انھیں سب سے سامنے لانے کا ذریعہ ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ نے ایک پینل گفتگو کے دوران کہا کہ ہمیں اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرنا ہوگا، یہ دنیا صرف مردوں کی دنیا نہیں ہونی چاہیے۔

انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری آئی اے رحمان نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی پارلیمان میں خواتین کی تعداد بڑھی ہے مگر انھیں آج بھی کچھ فاصلے پر ہی رکھا جاتا ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء کے بھی اسٹالز لگائے گئے تھے جہاں ایک گوشے کو ’بہن چارہ کارنر‘ کا نام دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکھانے پینے کی اشیاء کے بھی اسٹالز لگائے گئے تھے جہاں ایک گوشے کو ’بہن چارہ کارنر‘ کا نام دیا گیا تھا

دن بھر جاری رہنے والے مختلف مزاکروں میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کپتان ثناء میر، مختاراں مائی سمیت کئی نامور خواتین نے بھی شرکت کی۔

تاہم میلے میں شریک ہونے والی خواتین کی ایک بڑی اکثریت معاشی طور پر خوشحال طبقے سے تعلق رکھنے والی نظر آئی جبکہ اکثر مزاکرے بھی انگریزی زبان ہی میں ہوئے جو پاکستان کی ایک عام خاتون کے لیے سمجھنا شاید ممکن نہ ہو۔

لیکن اس کے باوجود اس میلے کا انعقاد اس لحاظ سے ضرور خوش آئند ہے کہ خواتین کو ایک مقام پر اکھٹا کرنے سے انھیں ایک دوسرے سے اپنے مسائل پر بات کرنے کا موقع ملا اور اگر اسی طرح اس کا انعقاد ہر سال کیا جاتا رہا تو بہت سی خواتین کو آگے بڑھنے کا موقع بھی مل سکے گا۔