شانگلہ کی حسن جمالہ، ہمت کی علامت

- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شانگلہ
ضلع شانگلہ کے اونچے اور سرسبز پہاڑوں کے بیچ دریا کے کنارے آباد ایک چھوٹے سےگاؤں میں چند خواتین دستکاری مرکز میں خود کو سلائی کڑھائی کی جدید تربیت سے لیس کر رہی ہیں۔
خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے اس تربیت گاہ کا مقصد معیشت میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانا ہے جس کے لیےگاؤں کی ایک خاتون حسن جمالہ نے ’ہیواد‘ نامی خواتین تنظیم بنائی ہے جو علاقے کی خواتین کی اگلی نسل کو پروان چڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
حسن جمالہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اس گاؤں میں ایک شخص نے اپنے بیوی کوگلا گھونٹ کر قتل کیا تھااور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی تو اس وقت میں نےمصمم ارادہ کیا کہ ہر حال میں خواتین کی احساس محرومی کو ختم کروں گی اور یہی جذبہ لیے میں مردوں کے اس معاشرے میں ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے جدو جہد کرنے نکلی۔
حسن جمالہ ایک سرکاری سکول میں استانی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سخت گیر موقف رکھنے والے مردوں کے اس معاشرے میں خواتین کے حقوق اور ان کو بااختیار بنانا اگر چہ بہت مشکل کام ہے لیکن سماجی رکاوٹوں کے باوجود بھی میری پیش قدمی جاری ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’میں یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ خواتین کی اپنی آواز ہو اور یہی مقصد لیے میں نے خواتین کو سماجی و تعلیمی سرگرمیوں میں شراکت دار بنانے کے لیے شانگلہ کے مختلف علاقوں کوز کانا اور الپوری میں نہ صرف دستکاری مراکز بنائے ہیں بلکہ تعلیمی مراکز بھی قائم کیے جہاں ناخواندہ خواتین لکھنا پڑھنا سیکھ رہی ہے تاکہ زندگی میں ان کے حصہ لینے کی صلاحیت بڑھ جائے اور وہ ملازمتیں حاصل کرنے کے علاوہ اپنا ذاتی کاروبار بھی شروع کر سکیں۔‘
خواندگی مرکز کی ایک طالبہ ریاست بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گاؤں میں کوئی سکول نہیں لیکن انھیں نے پانچ ماہ اس مرکز میں پڑھائی کی جس کی وجہ سے اب وہ کافی حد تک پڑھنا اور لکھنا سیکھ گئی ہیں۔ خواندگی مرکز میں اس وقت 76 خواتین اور لڑکیاں زیرِ تعلیم ہیں۔

حسن جمالہ نے بتایا کہ ’میں خواتین کے حقوق اور انھیں طاقت ور بنانے کے علاوہ علاقے کے لیے فلاحی کام بھی کرتی ہوں اور ان کی زندہ مثال گاؤں کو دیگر علاقوں سے ملانے کےلیے یہ رابطہ پل ہے جس کو میں نے ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے 16 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا، جس میں 80 فیصد این جی او اور 20 فیصد رقم برادری سے حاصل کی۔‘

گاؤں کی ایک خاتون بخت وصال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پل کی تعمیر سے پہلے سیلاب اور بارشوں میں دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے گاؤں دیگر علاقوں سے کٹ کر رہ جاتا تھا لیکن پل کی تعمیر سے اب زندگی آسان ہو گئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حسن جمالہ کو ان کی بہترین خدمات کے اعتراف میں ایک غیر سرکاری تنظیم پاورٹی ایلی ویشن فنڈ نے اعزاز سے بھی نوازا ہے جبکہ لڑکیوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے پر محمکمہ تعلیم نے بھی انھیں اعزازات دیے ہیں۔







