کوہ نور ہیرے کی واپسی، 1849 کے معاہدۂ لاہور کی نقل طلب

 پنجاب حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کوہ نور ہیرا ایک معاہدے کے تحت ملکہ برطانیہ کو تحفتاً دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشن پنجاب حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کوہ نور ہیرا ایک معاہدے کے تحت ملکہ برطانیہ کو تحفتاً دیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کوہ نور ہیرا کی واپسی کے مقدمے میں سنہ 1849 کے معاہدۂ لاہور کی نقل کے حصول کے لیے پنجاب کے محکمہ ارکائیوز کو خط لکھ دیا ہے جس میں کوہ نور ہیرے کو برطانیہ کو دیے جانے کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خان کے روبرو کوہ نور ہیرے کی برطانیہ سے واپسی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران منگل کو پنجاب حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کوہ نور ہیرا ایک معاہدے کے تحت ملکہ برطانیہ کو تحفتاً دیا گیا تھا جبکہ ملکہ برطانیہ یا برطانوی حکومت کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار بھی باہر ہے اس لیے یہ درخواست ناقابل سماعت ہے۔

جس پر عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ دو مئی کو ہونے والی اگلی سماعت میں معاہدۂ لاہور کی نقل فراہم کی جائے۔

عدالتی احکامات کی روشنی میں پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سراج الاسلام نے بدھ کے روز محکمہ آرکائیوز کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھا ہے جس میں ان سے معاہدۂ لاہور کی نقل کے ساتھ کوہ نور ہیرے کے حوالے سے بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سراج الاسلام نے بتایا کہ کوہ نور ہیرا پنجاب سے چھینا یا چوری نہیں کیا گیا بلکہ ایک معاہدے کے ذریعے برطانیہ کو دیا گیا ہے۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ دو مئی کو ہونے والی اگلی سماعت میں معاہدۂ لاہور کی نقل فراہم کی جائے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ دو مئی کو ہونے والی اگلی سماعت میں معاہدۂ لاہور کی نقل فراہم کی جائے

ان کا یہ بھی موقف ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی حدود پاکستان کے صوبہ پنجاب تک محدود ہیں اس لیے عدالت اپنے دائرہ اختیار سے باہر برطانوی حکام کو کس طرح طلب کرکے کارروائی کرسکتی ہے۔

دوسری جانب درخواست گزار بیرسٹر سید اقبال جعفری کا موقف ہے کہ کوہ نور ہیرا کسی معاہدے کے تحت یا تحفہ میں برطانیہ کو نہیں دیا گیا اور نہ ملکہ وکٹوریہ اس وقت تخت لاہور یا انڈیا کی ملکہ تھیں کہ انھیں یہ ہیرا تحفہ میں دیا جاتا۔

اقبال جعفری کا کہنا ہے کہ معاہدہ دو خود مختار حکومتوں کے درمیان کیا جاسکتا ہے جبکہ جس معاہدۂ لاہور کا ذکر کیا جارہا ہے وہ تخت لاہور اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے مابین تھا۔ ان کا یہ بھی موقف ہے کہ یہ معاہدہ رنجیت سنگھ سے نہیں بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کے کم عمر پوتے دلیپ سنگھ کے ساتھ ہوا تھا جن کی عمر اس وقت صرف سات سال تھی۔

اپنے دلائل میں بیرسٹر اقبال جعفری نے کہا کہ کوہ نور ہیرا برطانوی حکمرانوں نے چھینا ہے یہ پاکستان کے صوبہ پنجاب اور اس کے شہریوں کا ثقافتی ورثہ جسے واپس لایا جائے۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کر رکھی ہے کہ دولت مشترکہ کے رکن ملک کی حیثیت سے حکومت پاکستان کو ہدایت کی جائے کہ کوہ نور ہیرا واپس لانے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔