ایک ہیرے کے دو دعوے دار

،تصویر کا ذریعہPA
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائی کورٹ میں دنیا کے سب سے بڑے ہیروں میں شمار ہونے والےکوہِ نور ہیرے کی برطانیہ سے واپسی کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔
<link type="page"><caption> ’کوہ نور ہیرا واپس نہیں کیا جائےگا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/india/2013/02/130221_kohinoor_not_returned_ka" platform="highweb"/></link>
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ درخواست بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے دائر کی ہے۔ جس میں ملکہ برطانیہ، برطانوی ہائی کمشن، وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عدالت وفاقی حکومت کو دولت مشترکہ کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے ملکہ برطانیہ کا عہد حکومت ختم ہونے پر کوہ نور ہیرا لاہور منتقل کرنے کی درخواست کرنے کے احکامات دے۔
خیال رہے کہ105 کیرٹ کے کوہِ نور ہیرے کو19ویں صدی میں اس وقت برطانیہ لے جایا گیا تھا جب برصغیر پر برطانیہ کا قبضہ تھا۔ اس ہیرے کی واپسی کا دعویٰ پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے کیا جا چکا ہے۔
تاہم برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سنہ 2013 میں اپنے دورہ بھارت میں واضح کر دیا تھا کہ <link type="page"><caption> کوہِ نور ہیرا واپس نہیں کیا جائے گا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/india/2013/02/130221_kohinoor_not_returned_ka" platform="highweb"/></link>۔
ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ برطانیہ کے عجائب گھر دنیا بھر کے دوسرے عجائب گھروں کے ساتھ بات کر کے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ برطانیہ نے جن نایاب چیزوں کو جتنے بہترین طریقے سے سنبھال کر رکھا ہے ان کو پوری دنیا کے لوگوں کے ساتھ شيئر کیا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روئٹرز کے مطابق پاکستان کی عدالت میں درخواست کرنے والے بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی درخواست ابھی سماعت کے لیے منظور نہیں کی گئی۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ہیرا پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ہے اور اسے مقامی حکمرانوں سے ناجائز دباؤ کے ساتھ زبردستی برطانیہ لے جایا گیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ اقبال جعفری اب تک اس ہیرے کی واپسی کے لیے 786 خطوط پاکستانی حکام اور ملکہ الزبتھ کو لکھ چکے ہیں۔ اپنی پٹیشن میں انھوں نے بتایا کہ اب تک ان کا ایک ہی خط ملکہ برطانیہ کو پرنسپل سیکریٹری کے ذریعے موصول ہو سکا ہے۔
واضح رہے کہ مہاتما گاندھی کے پوتے سمیت بھارت کی کئی اہم شخصیات برطانیہ سے کئی بار یہ مطالبہ کر چکی ہیں کہ وہ کوہِ نور ہیرا بھارت کو واپس کرے۔
1850 میں بھارت کے اس وقت کے گورنر جنرل نے برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا کو یہ کوہِ نور ہیرا تحفے میں دیا تھا، بعد میں اس ہیرے کو ملکہ الزبتھ کے تاج میں سجا دیا گیا تھا۔
1997 میں ملکہ الزبتھ دوم جب بھارت کے دورے پر آئی تھیں تو ان کے دورے کے دوران بھی کوہِ نور واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔







