کوہِ نور ہیرا چُرایا نہیں گیا: انڈیا

انڈیا کا کہنا ہے کہ پنجاب کے راجہ نے کوہ نور ہیرا برطانوی حکومت کو اپنی مرضی سے دیا تھا اور اسے چُرا کر نہیں لے جایا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ ہیرا برطانیہ کو سکھ جنگوں کے بعد دیا گیا تھا، اسے چرایا نہیں گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ وزارت ثقافت کا موقف ہے اور وزارت خارجہ نے ابھی اپنا نظریہ واضح نہیں کیا۔
سپریم کورٹ ایک غیر سرکاری ادارے کی دائرکردہ پٹیشن کی سماعت کر رہی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو کوہ نور واپس لانے کی ہدایت دے۔
حکومت کے موقف کے برعکس ایک نظریہ یہ ہے کہ برطانوی حکومت نےسکھوں کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد راجہ رنجیت سنگھ کے نابالغ جانشین دلیپ سنگھ سے یہ ہیرا حاصل کیا تھا۔
عدالت نے اس سلسلے میں حکومت کو ایک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت اگر اپنے موقف پر قائم رہتی ہے تو اس کے لیے مستقبل میں کوہ نور کو واپس لانے کے راستے بند ہو جائیں گے۔
یہ غالباً پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے واضح الفاظ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ کوہ نور کو واپس لانے کی کوششوں میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
فی الحال یہ ہیرا برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی ملکیت ہے اور ملکہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 105 قیراط کا یہ ہیرا کبھی دنیا کا سب سے بڑا ہیرا تھا، لیکن بعد میں اسے تراش کر چھوٹا کر دیا گیا تھا۔
حکومت کے مطابق راجہ رنجیت سنگھ نے 1850 میں یہ ہیرا سامراجی حکومت کو تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوہ نور کو واپس کرنے سے برطانیہ ماضی میں انکار کرتا رہا ہے لیکن ہندوستان میں بہت سے لوگ اسے قومی وراثت کا حصہ سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اسے واپس لایا جانا چاہیے۔
کچھ بھارتی نژاد برطانوی اراکین پارلیمان بھی یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ کوہ نور ہندوستان کو لوٹا دیا جائے کیونکہ ان کے مطابق برطانوی حکومت نے اسے غیر قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔
مورخین کے مطابق کوہ نور معاہدہ لاہور کے بعد برطانوی تحویل میں پہنچا تھا۔ یہ معاہدہ ان جنگوں کے بعد طے پایا تھا جن کے نتیجے میں پنجاب برطانیہ کے کنٹرول میں آگیا تھا۔







