صوبائی مشیرکو مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا: طالبان

،تصویر کا ذریعہFacebook
کالعدم تنظیم تحریک طالبان نےخیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر اور رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔سردار سورن سنگھ کو جمعہ کے روز بونیر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔
تحریک طالبان نے بی بی سی کو بھیجےگئے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان نے بونیر کے علاقے پیر بابا میں وزیراعلیٰ کے مشیراور معاون خصوصی سردار سورن سنگھ کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
تحریک طالبان ترجمان نے کہا ہے انھوں نے سردار سورن سنگھ کو سکھ مذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ نہیں مارا بلکہ انھیں نشانہ بنانے کی وجہ ان کا حکومتی عہدیدار ہونا تھا۔
گذشتہ روز بونیر کے ضلعی پولیس افسر خالد محمود ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ سردار سورن سنگھ اپنے گاؤں پیر بابا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔
سردار سورن سنگھ پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی تھے اور اس کے علاوہ ان کے پاس وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اقلیتی امور کا قلمندان بھی تھا۔

سورن سنگھ نے سال 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ اس سے پہلے وہ جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔ وہ سکھ برادی کے اہم رکن تھے اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے انھوں نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔
پیشے کے لحاظ سے وہ ڈاکٹر تھے اور اس کے علاوہ پشتو زبان کی ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر کے لیے وہ تین سال تک ایک پروگرام کی میزبانی کرتے رہے جس کا نام تھا ’زہ ہم پاکستانی یم‘ جس کا مطلب ہے میں بھی پاکستانی ہوں۔
31 مارچ کو اندرون پشاور شہر ہشتنگری گیٹ کے قریب سکھوں کے ایک گوردوارے کو 70 سال بعد عبادت کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ سردار سورن سنگھ حکومت کے اس اقدام کو سراہا تھا اور کہا تھا کہ اس میں مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







