سکھ تہوار بیساکھی کے میلے میں ہزاروں یاتریوں کی شرکت۔
،تصویر کا کیپشنسکھوں کے سالانہ مذہبی تہوار بیساکھی کے موقعے پر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری پاکستان کے شہر حسن ابدال میں پنجہ صاحب کی یاترا کے لیے آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپنجہ صاحب آنے والے یاتریوں کی بڑی تعداد ہمسایہ ملک بھارت سے واہگہ باڈر کے راستے پاکستان پہنچتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنحسن ابدال میں پنجہ صاحب آنے والے سکھ یاتریوں میں مغربی ملکوں اور امریکہ میں بسنے والے سکھ بھی شامل ہوتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبیساکھی کے موقعے پر مختلف مذہبی رسومات پوری کی جاتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسکھ یاتریوں میں نوبیاہتا جوڑے بھی اپنی من کی مرادیں حاصل کرنے کے بعد پنجہ صاحب منتیں پوری کرنے آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسکھ یاتریوں میں تبرک یا پرشاد بھی تقسیم کیا جاتا ہے جسے عقیدت مند بڑے احترام سے وصول کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسکھ یاتریوں کی پنجہ صاحب آمد اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپنجہ صاحب سکھوں کا انتہائی مقدس مقام ہے جہاں روایت کے مطابق گرو نانک نے ایک ہاتھ سے پہاڑ سے گرتی ہوئی چٹان روک لی تھی۔
،تصویر کا کیپشنسکھ یاتری پنجھ صاحب کے تالاب میں اشنان بھی کرتے ہیں جو ان کی مذہبی رسومات میں شامل ہے۔
،تصویر کا کیپشنسکھ یاتری میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے جو پوری سج دھج سے اس تہوار میں شرکت کرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسکھ یاتری بھرپور عقیدت اور مذہبی جوش و خروش سے اس تہوار میں حصہ لیتے ہیں۔