پشاور میں سکھوں کا گوردوارہ دوبارہ کھولنے کی اجازت

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور میں انتظامیہ نے 68 برسوں سے بند سکھوں کے گوردوارے کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس گوردوارے کی مرمت مکمل کرنے کے بعد اگلے ماہ اس کا افتتاح کیا جائے گا ۔
اندورن پشاور شہر ہشت نگری کے علاقے میں محلہ جوگیانوالا میں سکھوں کا ایک گوردوارہ سنہ 1947 کے بعد سے بند پڑا تھا۔ یہ گوردوارہ محکمہ اوقاف متروکہ املاک بورڈ سے ملحق ہے۔
سکھ برادری کے رہنما صاحب سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ 1990 سے کوششیں کر رہے تھے کہ گوردوارہ عبادت کے لیے کھول دیا جائے اور تین سال پہلے اسے کھولنے کا اجازت دے دی گئی تھی لیکن حالات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔
صاحب سنگھ نے بتایا کہ مقامی لوگوں کو گوردوارہ کھولنے پر کچھ خدشات تھے لیکن مقامی انتظامیہ اور پولیس نے اس معاملے کو حل کر دیا ہے اور اب اس کی مرمت کا کام چند روز میں شروع کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں حالات کی خرابی کی وجہ سے بڑی تعداد میں سکھ پشاور منتقل ہو گئے ہیں۔ سکھوں کی بڑی تعداد پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی اور کرم ایجنسی میں رہائش پذیر تھی لیکن اب وہ پشاور میں مقیم ہیں۔
پشاور میں اس وقت صرف ایک ہی گوردوارہ ہے جو اندرون پشاور ڈبگری کے علاقے محلہ جوگن شاہ میں قائم ہے۔ اس ایک گوردوارے میں روزانہ بڑی تعداد میں سکھ عبادت کے لیے آتے ہیں۔ محلہ جوگن شاہ کے گوردوارے سے تعلق رکھنے والے چرن جیت سنگھ نے بتایا کہ ہشتنگری کا گوردوارہ بائی بیبا سنگھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پشاور میں اس وقت تقریباً ایک ہزار سکھ خاندان آباد ہیں اور ان کے مطاابق پشاور میں پاکستان بننے سے پہلے ایک سو کے لگ بھگ سکھوں کی عبادت گاہیں تھیں۔
صاحب سنگھ نے بتایا کہ پاکستان میں یہ تیسرا گوردوارہ ہے جو پاکستان کے بننے کے بعد کھولا جا رہا ہے ان میں ایک کراچی اور دوسرا فیصل آباد میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اس اوقاف کے پاس املاک میں سکول اور دست کاری مراکز بند قائم کیے گئے تھے۔ ہشت نگری کے اس گوردوارے میں بھی ایک دستکاری مرکز قائم تھا۔
اس مرکز کی پہلی پرنسپل شفقت آرا نے بتایا کہ وہ 1954 سے یہاں ان عمارتوں میں قائم دست کاری مراکز میں کام کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ یہ کوئی بڑا گوردوارہ نہیں تھا بلکہ اس کے ایک کمرے میں سکھ عبادت کرنے آتے تھے۔
پشاور کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں سکھ برادری کے لوگ مختلف قسم کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ کچھ عرصے قبل سکھ برادری کے کچھ لوگوں کو ٹارگٹ کر کے ہلاک بھی کیا گیا تھا ۔ گذشتہ سال اگست اور ستمبر کے مہینے میں تین سکھوں کو مختلف واقعات میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔







