’فوج کھل کر طاقت استعمال نہیں کر سکتی‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں فوج اور مقامی کسانوں کے درمیان زمین کی ملکیت کے معاملے پر برسوں پرانا تنازعہ ایک بار پھر خبروں میں ہے اور حقوقِ انسانی اور مزارعین کی تنظیمیں الزام لگا رہی ہیں کہ اب اسے دہشت گردی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار محمد حنیف کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس تنازعے کو تقرباً دس برس ہو گئے ہیں تاہم یہ مسئلہ تقسیم ہند سے بھی پرانا ہے اور اس کی جڑیں برطانوی راج کے دور تک جاتی ہیں۔

’اوکاڑہ کے علاقے میں نہری نظام ترتیب دیے جانے سے پہلے یہ علاقہ جنگل تھا، یہاں انگریز حکومت نے کچھ لوگوں کو زمین الاٹ کر دی تھی، جبکہ باقی زمین حکومت نے اپنے پاس رکھی اور اسے کاشتکاری کے لیےمقامی کسانوں کو پٹے پر دے دیا۔

لوگ ایک سو سال سے زیادہ عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں اور کاشتکاری کر رہے ہیں لیکن اس زمین کے مالکانہ حقوق ان کے پاس نہیں ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ زمین اصل میں پنجاب حکومت کے پاس تھی جس نے اسے ٹھیکے پر فوج کو دیا ہوا تھا اور فوج نے آگے اسے کسانوں کو ٹھیکے پر دے رکھا تھا۔

’تقریباً دس سال پہلے فوج کو یہ زمین خالی کرانے کا خیال آیا تو اس اس سلسلے میں اقدامات اٹھانا شروع کیے۔ مزارعین اس کے خلاف اکھٹے ہو گئے اور مشترکہ جدو جہد شروع کر دی۔

یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے، کبھی فوج محاصرہ کر لیتی ہے اور کبھی دوسرے طریقوں سے دباؤ ڈالتی ہے۔ اصل میں فوج یہ زمین واپس لینا چاہتی ہے، جبکہ مزارعین یہ زمین واپس نہیں کرنا چاہتے۔‘

اس سوال پر کہ اس سلسلے میں فوج کا موقف ہے کیا، محمد حنیف نے بتایا کہ ’فوج کہتی ہے کہ زمین ان کی ہے، حالانکہ اس سے پہلے پنجاب حکومت کہتی تھی کہ اصل مالک وہ ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ مزارعین کا قبضہ ناجائز ہے اور اس ٹھیکے میں جتنا حصہ فوج کا بنتا ہے وہ فوج کے خیال میں انھیں نہیں دیا جاتا اور وہ چاہتی ہے یا تو مزارعین سے زمین واپس لی جائے یا وہ فوج کی شرائط کو قبول کریں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زمین کا محلِ وقوع کا بھی اس تنازعے کی اہمیت میں اہم کردار ہے

’یہ زمین اوکاڑہ شہر کے بہت قریب ہے لہذا اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ شروع میں تو یہ زمین زرعی زمین تھی، اب بھی اگرچہ یہ زرعی ہی سمجھی جاتی ہے لیکن چونکہ یہ شہر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اس لیے اس کی تجارتی اہمیت اور قیمت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ اور اسے وسطی پنجاب کی سب سے زیادہ زرخیز زمین سمجھا جاتا ہے۔‘

محمد حنیف کے مطابق شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے فوج وہاں بسنے والے افراد کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتی اور یہاں کے مکین اس طرح کے مزارعین یا ہاری نہیں جو سندھ میں پائے جاتے ہیں۔

’یہ کسان یہاں نسل در نسل رہتے چلے آئے ہیں، تاہم فوج وہاں کھل کے طاقت نہیں استعمال کر سکتی۔ دس سال سے جاری اس جھگڑے میں اب وہاں بکتر بندگاڑیوں کے جانے کی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جس نے آواز اٹھائی، کسی کے خلاف پچاس مقدمے ہیں تو کسی کے خلاف سو جھوٹے مقدمات قائم ہیں۔ حالانکہ وہ لوگ غریب کسان ہیں۔‘

محمد حنیف کے مطابق ملک میں بننے والی حکومتیں ان کسانوں کو مالکانہ حقوق دینے کے وعدے تو کرتی رہی ہیں لیکن وہ وفا نہیں ہوئے۔

’انتخابات سے پہلے ہر حکومت وعدہ کرتی ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد مالکانہ حقوق دلائے جائیں گے لیکن شاید فوج کے سامنے خو کو بے بس پاتے ہیں یا ان کی نیت ہی نہیں ہوتی کچھ کرنے کی۔ اگر تینوں فریق بیٹھیں اور جس کا جتنا حق ہے اسے دیا جائے تو ہی حل نکل سکتا ہے۔‘