بچے کی واپسی کے لیے ’وزیرِ اعظم کی یقین دہانی‘

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Saifullah
لائن آف کنٹرول بٹ جانے والے چار سالہ کشمیری بچے کے ماموں وقار کیانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے انھیں یقین دلایا ہے کہ حکومت بچے کو اس کی والدہ کے حوالے کروانے کے لیے جلد اقدامات کرے گی۔
وقار کیانی نے لندن میں میاں نوازشریف سے ملاقات میں انھیں کو درخواست دی ہے کہ چار سالہ افتخار کیانی کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے واپس لانے میں ان کی مدد کی جائے۔
* <link type="page"><caption> کشمیری بچہ لائن آف کنٹرول میں ’بٹ‘ گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/03/160322_kashmiri_child_mother_father_issue_mb" platform="highweb"/></link>
وقار نے لندن سے فون پر بتایا کہ گلزار تانترے کے والد مقبول تانترے نے فون پر ان کو اطلاع دی ہے کہ ہمارا گھرانہ اب افتخار کیانی کو واپس اس کی والدہ کے پاس بھیجنے پر رضامند ہے۔
صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق وقار کا کہنا ہے کہ مقبول تانترے کے مطابق گلزار نے بچے کا پاکستانی پاسپورٹ غائب یا ضائع کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب افتخار کو پاکستانی حکومت کی مدد کے بغیر لانا ممکن نہیں۔
بچے کی والدہ 43 سالہ روحینہ کیانی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد میں اپنی والدہ کے ہمراہ اکیلی رہتی ہیں جبکہ ان کے بھائی وقار کیانی روزگار کے سلسلے میں کافی عرصے سے لندن میں مقیم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Saifullah
واضح رہے کہ افتخار کیانی نامی یہ بچہ روحینہ کیانی اور گلزار تانترے کی اپنی اولاد نہیں ہے بلکہ گود لیا گیا ہے۔
روحینہ کیانی کو بچہ گود دینے والے شخص نے مقامی عدالت کے روبرو ایک تحریری بیان دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ چار سال قبل ایمز ہسپتال مظفرآباد میں نومولود کو انھوں نے روحینہ کے حوالے کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی دوران پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی نے بھارت میں تعینات پاکستان کے ہائی کمیشنر عبدالباسط کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے چار سالہ بچے کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
روحینہ کہانی نے سنہ 2002 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے گاندربل سے آئے ہوئے ایک نوجوان گلزار سے شادی کی۔ روحینہ کو طبی پچیدگیوں کی وجہ سے چار مردہ بچے پیدا ہوئے جس کے بعد انھوں نے چار سال قبل ایک نومولود بچے کو گود لیا۔ 12 مارچ سنہ 2016 کو ان کے شوہر دھوکے سے بچے کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر لے گئے تھے۔







