کشمیری بچہ لائن آف کنٹرول میں ’بٹ‘ گیا

روحینہ اپنے بچے کے لیے مظفرآباد میں آنسو بہا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Saifullah

،تصویر کا کیپشنروحینہ اپنے بچے کے لیے مظفرآباد میں آنسو بہا رہی ہیں

ایک چار سالہ بچہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ایک جیل میں اپنے والد کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ معاملہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیر کی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام مظفرآباد سے صحافی اورنگزیب جرال نے لکھا ہے کہ بچے کی 43 سالہ والدہ روحینہ کیانی کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر ان کے چار سال کے بچے کو سرحد کے پار ’اغوا‘ کر کے لے گئے تھے۔

جبکہ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق چار سالہ بچے افتخار احمد کے والد گلزار احمد تانترے جو مبینہ طور پر سنہ 1990 میں لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلے گئے تھے اب وہ اپنے گاؤں واپس آ گئے ہیں اور انھوں نے جمعے کی صبح خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے ماں اور بچے کے درمیان ایک سرحد حائل ہے۔ ماں سرحد کے ایک جانب مظفرآباد میں ہے جبکہ ان کا بیٹا سرحد کے دوسرے جانب وادی کشمیر کی گاندر بل جیل میں اپنے والد کے ساتھ ہے۔

روحینہ نے روتے ہوئے بتایا کہ شاید اب وہ اپنے بچے کو کبھی نہیں دیکھ پائیں گی۔ ’وہ میرا واحد سہارا تھا جومجھ سے چھین لیا گیا۔‘

روحینہ اور گلزار نے یہ بچہ گود لیا تھا

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Saifullah

،تصویر کا کیپشنروحینہ اور گلزار نے یہ بچہ گود لیا تھا

روحینہ کی کہانی سنہ 2002 میں شروع ہوتی ہے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر گاندربل کے سالورہ سے آنے والے 28 سالہ گلزار المعروف سہیل تانترے کے ساتھ ان کی شادی ہوئی۔

ابتدا میں دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے رہے لیکن طبی پچیدگیوں کے سبب روحینہ کو چار مرتبہ مردہ بچے پیدا ہوئے جس کی وجہ سے دونوں پریشان تھے۔ اس کے بعد روحینہ نے تقریباً چار سال قبل ایک نومولود یتیم بچے کو گود لیا۔

اس بچے کا نام آٹھ اکتوبر سنہ 2005 کے زلزلے میں ہلاک ہونے والے روحینہ کے بھائی افتخار کیانی کے نام پر افتخار رکھا گیا تھا۔

روحینہ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ 12 مارچ کو ان کا شوہر بہانے سے بچے کوگھر سے لے گیا کہ اسے ہری پور میں ایک دوست کی شادی میں شرکت کرنی ہے۔

روحینہ کا کہنا ہے کہ گھر سے جانے کے بعد وہ گلزار سے دو دن تک فون پر رابطے میں رہیں جس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا اور ان کا فون مسلسل بند آتا رہا۔

روحینہ کے مطابق وہ تین روز تک انھیں پاکستان میں تلاش کرتی رہیں لیکن ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا تو پھر انھوں نے وادی کشمیر میں گلزار کے والدین سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ گلزار کشمیر پہنچ چکا ہے۔ انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ دبئی کے راستے کشمیر پہنچا ہے۔

روحینہ اپنے بچے افتخار کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Saifullah

،تصویر کا کیپشنروحینہ اپنے بچے افتخار کے ساتھ

دوسری جانب پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی نے بھارتی وزرات خارجہ سے رابطہ کیا اور لکھا کہ ان کا ’ٹرسٹ گاندر بل کی ایک جیل میں قید چار سالہ پاکستانی بچے کی رہائی کے لیے درخواست گزار ہے۔

جبکہ اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق گاندربل کے پولیس سپرنٹینڈینٹ امتیاز اسماعیل پرے نے کہا کہ ’بچہ آزاد ہے لیکن وہ اپنے والد کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

’اس کے والد پاکستان سے لوٹے ہیں اور ہم نے انھیں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے دفعہ 13 اور 3/2 کےتحت حراست میں لیا ہے۔‘

جبکہ اخبار کے مطابق پولیس تھانے کے افسر آصف اقبال نے کہا: ’ہم ایک چار سالہ بچے کو کس طرح گرفتار کر سکتے ہیں۔ وہ کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہے لیکن وہ جانا ہی نہیں چاہتا۔‘

گلزار کے بھائی زبیر احمد تانترے کے مطابق ’وہ (بچہ افتخار) اپنے والد کے علاوہ وہاں کسی دوسرے کو نہیں پہچانتا اس لیے وہ اسے چھوڑ کے جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

دوسری جانب روحینہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعلقہ تھانے کے پولیس آفیسر سے رابط کیا اور التماس کی کہ افتخارکے ساتھ ان کی بات کرائی جائے لیکن انھوں نے انکار کیا۔

ماں مظفرآباد میں ہیں جبکہ ان کا بچہ پاکستان کی ایک جیل میں اپنے والد کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAurangzeb Saifullah

،تصویر کا کیپشنماں مظفرآباد میں ہیں جبکہ ان کا بچہ پاکستان کی ایک جیل میں اپنے والد کے ساتھ

ماں کو ایک طرف یہ دکھ ہے کہ ان کا بچہ ان سے بچھڑ گیا اور دوسری جانب یہ پریشانی بھی ہے کہ ان کا معصوم بچہ پولیس کی حراست میں نہ جانے کس حال میں ہوگا۔

42سالہ گلزار مقبول تانترے المعروف سہیل ان ہزاروں کشمیری نوجوانوں میں شامل تھے جوسنہ 1990 میں مسلح تحریک کے آغاز پر وادی کشمیر سے سرحد عبور کرکے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر چلے گئے تھے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہی رہ گے لیکن کچھ برسوں میں سینکڑوں نوجوان نیپال اور دبئی کے راستے واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔