پاکستان کا فائدہ اور نقصان کتنا؟

،تصویر کا ذریعہArg
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کوششیں بظاہر فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔ طالبان کی جانب سے صاف نہ نے چار ملکی گروپ کی تیاریوں کو بھی بریک لگا دیے ہیں۔ بعض ممالک کو آج بھی پاکستان کی نیت پر شک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان قیام امن کے لیے سنجیدہ ہے لیکن یہ سنجیدگی عملی صورت اختیار نہیں کر پا رہی ہے۔ مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو کیا نقصان ہوسکتا ہے؟ اس کا تفصیلی جائزہ ان تین مضامین میں لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلے کی دوسری قسط حاضر ہے۔
یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ افغانستان میں جاری جنگ ہمسایہ ملک پاکستان کے لیے کتنی نقصانات کا باعث ہے۔ پاکستان سرحد پار خونی قضیے کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے اور ادا کر بھی رہا ہے۔ ایسے میں مصالحتی عمل شروع ہونے اور قیام امن سے ہمسایہ ملک پاکستان کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ جنگ میں طوالت اس کے لیے کیا کیا مسائل پیدا کرسکتی ہے یا پہلے سے درپیش مسائل کی دلدل کو کتنا مزید گہرا کرسکتی ہے؟
سب سے پہلے تو معاشی محاذ پر اگر دیکھا جائے تو پاکستان، افغانستان سے اتنا فائدہ نہیں اٹھا پا رہا جتنا کہ گنجائش ہے۔
پاکستانی اہلکار ہمیشہ افغان پناہ گزینوں کے معاشی بوجھ کی بات کرتے ہیں لیکن قیام امن کی صورت میں افغانستان کی منڈی انھیں کتنا فائدہ دے سکتی ہے اس بارے میں بات کم ہی ہوئی ہے۔
افغان اہلکاروں کے مطابق پرامن افغانستان میں وہ 70 سے 80 ارب ڈالرز زیادہ اقتصادی منافع کما سکتے ہیں۔ یہ اعداوشمار پاکستان کے جی ڈی پی کو مضبوط کرسکتا ہے۔
پاکستان کی طرح افغانستان کی قیادت خصوصا صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا مضبوط پہلو معیشت ہے۔ وہ اور نواز شریف مل کر اقتصادی مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
ڈاکٹر اشرف غنی پہلے ہی افغانستان میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے قیام کا اعلان کرچکے ہیں۔ پاکستانی برآمدکندگان یہاں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت افغانستان کے بڑے تجارتی ممالک میں سے ایک ہے اور سالانہ تین ارب ڈالرز کی برآمدات کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
سٹیٹ بنک کے سابق سربراہ ڈاکٹر عشرت حسین کہتے ہیں کہ پاکستان کو آنے والے دنوں میں افغانستان کے ساتھ آزادانہ اور باہمی تجارت کے معاہدوں کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے دونوں مملک کو درآمدی بندرگاہوں پر مشترکہ کسٹم یونین کی تجویز بھی دی ہے تاکہ سامان کی باآسانی نقل و حرکت ہوسکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان کی منڈی پر پاکستان کی نظر ہو یا نہ ہو، چین کی ضرور ہے۔ چین کا اس خطے میں اہم ہدف اقتصادی منافع ہے جس کے لیے اسے بھی امن عامہ کی اشد ضرورت ہے۔ چینی سرمایہ کار تو طالبان دورے حکومت میں 1998 میں قندہار جیسے علاقے میں چینی کے کارخانے لگانے کے سروے کر چکے ہیں۔ وہ بھی اس مارکیٹ کو نظر میں رکھے ہوئے ہیں لیکن خطے کے دیگر ممالک کی طرح انھیں بھی دراصل امریکہ کی افغانستان میں طویل المدتی موجودگی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔
لیکن امریکہ کے افغانستان سے مکمل انخلاء کے اشارے ابھی نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ بڑھتا ہوا تشدد اور طالبان کی طاقت شاید انہیں ایسا نہ کرنے دے۔ ایسے میں امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
لوگوں کی اکثریت تو اسے ایک غیرسنجیدہ شخص کی ذہنی اختراع قرار دیتے ہیں لیکن بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات انھوں نے بغیر کسی بریف کے نہیں کی ہوگی۔
پاکستان کو افغانستان میں معاشی نقصان اور اپنے ملک کے اندر شدت پسندی کی وجہ سے مالی نقصانات خطے کے دیگر ممالک خصوصا ہندوستان سے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔
بھارت تو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ’میڈ ان انڈیا‘ اور ’انکریڈیبل انڈیا‘ جیسی مہمات کے ذریعے عالمی مزید سرمایہ کاری کھیچنے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن پاکستان کسی سیاح کو اسلام آباد تک کو آنے کا نہیں کہہ سکتا ہے۔
افغان اور امریکی حکام کہتے ہیں کہ افغان تو پہلے سے ایک غریب ملک ہے اور غربت میں رہ سکتا ہے لیکن اس کی سرزمین پر دو جمہوری و جوہری طاقتیں اگر پراکسی وار کریں گی تو زیادہ جانی اور مالی نقصان پاکستان کا ہی ہوگا۔ اور یہ گزشتہ 15 سالوں کی کشیدگی نے ثابت کر دیا ہے۔ سویت یونین کا اگر افغانستان قبرستان بنا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ دنیا کی مضبوط ترین فوج ہونے کے باوجود جب بات معیشت کی آئی تو پورا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔







