جنگ، مذاکرات یا دونوں ساتھ ساتھ؟

کچھ طالبان گروہوں ابھی تک ملا منصور کو بطور رہنما قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکچھ طالبان گروہوں ابھی تک ملا منصور کو بطور رہنما قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں
    • مصنف, داؤد اعظمی
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

افغان طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کے دو رشتہ داروں کو باغی تحریک میں سینیئر عہدے دے دیےگئے ہیں۔

کیا یہ پرانی اور نئی قیادت کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ کے خاتمے کا اشارہ تو نہیں ہے؟

طالبان کی جانب سے جاری کیےگئے بیان کے مطابق سابق رہنما ملا محمد عمر کے بڑے صاحبزادے ملا یعقوب کو 15 صوبوں پر مشتمل طالبان کے فوجی کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ کمیشن وزارت جنگ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتا ہے اور یہ طالبان کے نو کمیشنوں میں سب سے اہم ہے۔

اُن کے چچا اور ملا محمد عمر کے بھائی ملا عبد المنان کو تبلیغ اور رہنمائی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے فرائض میں بھرتی، رہنمائی، دوبارہ انضمام اور حکومت کا ساتھ چھوڑنے پر لوگوں کو مائل کرنا ہے۔

اِس کے علاوہ 20 اراکین پر مشتمل رہنما کونسل بھی قائم کی گئی ہے، جو کہ اِس گروہ کے فیصلے کرنے والی ذمہ دار ہے۔

ملا اختر منصور بہت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے طالبان کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہو گئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملا اختر منصور بہت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے طالبان کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہو گئے

اگرچہ ملا عبد المنان کے پاس فوجی یا باضابطہ سیاسی طاقت نہیں ہے، تاہم اُن کی حمایت علامتی طور پر کافی اہم ہے اور طالبان کے نئے سپریم لیڈر ملا اختر منصور کی قانونی حیثیت میں اضافہ کرتی ہے۔

جب سنہ 2015 میں اِس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ ملا عمر دو سال قبل ہی انتقال کر چکے ہیں تو ملا یعقوب اور ملا منان نے ملا اختر منصور کی نئے طالبان سربراہ کی حیثیت سے تقرری کی مخالفت کی تھی۔

27 سالہ ملا یعقوب مبینہ طور پر پاکستان کے شہر کراچی کے دینی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔

افغان طالبان کے کئی اہم رہنماؤں نے بھی ملا منصور کی تقرری کی مخالفت کی تھی۔ یہ تمام افراد ملا عمر کے خاندان کے جھنڈے تلے آگے بڑھنا اور نئے رہنما کی حیثیت سے ملا یعقوب کی تقرری چاہتے تھے۔

لیکن کئی ہفتے کی سودے بازی اور مذاکرات کے بعد دونوں افراد نے ملا منصور کی قیادت تسلیم کرنے کا بیان جاری کیا تھا۔

دراڑیں ختم

یہ تقرری طالبان میں طاقتور رہنما سمجھے جانے والے ملا عبد القیوم ذاکر کی جانب سے نئے طالبان رہنما کی حمایت کے اعلان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ ملا ذاکر اقتدار کی لڑائی میں ’غیرجانبدار‘ رہے تھے۔

ملا عمر ذرائع ابلاغ کی نظروں سے زیادہ تر اوجھل ہی رہے تھے
،تصویر کا کیپشنملا عمر ذرائع ابلاغ کی نظروں سے زیادہ تر اوجھل ہی رہے تھے

ملا ذاکر طالبان کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔ گوانتاناموبے کے جیل سے رہائی کے بعد وہ طالبان کے فوجی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

لیکن 30 مارچ کو طالبان کی جانب سے ہاتھ سے تحریر کردہ ایک خط ذرائع ابلاغ کے اداروں کو بھیجا گیا اور اِس خط کو طالبان کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیا گیا تھا۔ اِس خط پر ملا ذاکر کے دستخط بھی موجود تھے، جس میں اُن کا کہنا ہے کہ سابقہ ’تحفظات‘ دور ہو گئے ہیں اور اب وہ ملا اختر منصور کی بیعت کرتے ہیں۔

طالبان کی بنیاد رکھنے والے ملا عمر کے قریبی رشتہ داروں میں سے کچھ کی اہم عہدوں پر تقرریاں اور ملا ذاکر جیسے طاقتور کمانڈروں کی جانب سے ملا اختر منصور کے ساتھ وفاداری کے عہد سے گروہ کے اندر پیدا ہونے والی دراڑیں ختم ہوگئی ہیں اور اِس سے ملا اختر منصور کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے جو ملا عمر کی وفات کے بعد دو سال سے طالبان کی رہنمائی کر رہے تھے۔

لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملا منصور کی مشکلات ختم ہوگئی ہیں۔

فیصلہ کن جنگ

طالبان سے الگ ہونے والا گروہ مرکزی طالبان کے ساتھ جاری لڑائی میں کمزور تو ہوا ہے کہ لیکن یہ اب بھی فعال ہے۔

دوبارہ مسلح مزاحمت کے باوجود کچھ طالبان ہتھیار جمع کرانے پر رضامند ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندوبارہ مسلح مزاحمت کے باوجود کچھ طالبان ہتھیار جمع کرانے پر رضامند ہو گئے ہیں

ملا محمد رسول کی قیادت میں نومبر 2015 میں قائم ہونے والے دھڑے اور مرکزی گروہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان اکثر لڑائی ہوتی رہتی ہے۔

ملا منصور کو اب بھی کچھ معروف طالبان رہنماؤں سے مصالحت کرنے کی ضرورت ہے، جنھوں نے عوامی طور پر اُن سے بیعت نہیں کی ہے۔

باغی گروہ، شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ، افغان فوج اور اُن کے غیر ملکی اتحادیوں کے خلاف کئی محاذوں پر لڑنے کے باوجود مرکزی طالبان دوبارہ سے اپنے قدم جما رہے ہیں۔

اِن نئی پیش رفتوں کا وقت بھی بہت اہم ہے۔

اِس بات کا امکان ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک طالبان اپنے سالانہ موسم بہار حملوں کا اعلان کردیں گے۔

تقریباً تین ہفتے قبل ملا اختر منصور نے اپنے پیروکاروں کو ’آخری دھکے‘ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا اور اُن کو ’آنے والے مہینوں میں فتح‘ کی امید دلائی تھی۔

حالیہ عرصے میں افغانستان کے سکیورٹی اہلکاروں اور طالبان کے مزاحمتی گروہوں میں لڑائی جاری رہی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحالیہ عرصے میں افغانستان کے سکیورٹی اہلکاروں اور طالبان کے مزاحمتی گروہوں میں لڑائی جاری رہی ہے

اہم رہنماؤں کی واپسی اور گروہ میں اختلافات کے خاتمے سے ممکنہ امن مذاکرات اور مستقبل میں کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے اثرات مرتب ہوں گے۔

اب تک طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کیا تھا، اُنھوں نے غیر ملکی افواج کے انخلا، فہرستوں سے رہنماؤں کے نام ہٹانے اور طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

افغانستان میں ایک اور اہم سال جنگ اور مذاکرات، یا کم سے کم مذاکرات کے حوالے سے باتیں، ساتھ ساتھ جاری رہتی دکھائی دے رہی ہیں۔