’پاکستان، ایران قریب آتے ہی افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ جب بھی ایران پاکستان کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے تو افواہیں گردش کرنا شروع ہوجاتی ہیں۔
سنیچر کو ایرانی صدر حسن روحانی نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان میں انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ کی مدخلت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم جب بھی پاکستان کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو اس قسم کی افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ ہم نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔‘
’ہم نے یہ بات کی ہے کہ ہم کس طرح اپنے تعلقات کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ ہم نے علاقائی سالمیت پر بات کی ہے، ہم ایک ہی طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ علاقے کے مسائل فوج سے حل نہیں ہو سکتے۔‘
واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کےداخلی معاملات خصوصاً پاکستان میں انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ کی مداخلت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر سے کہا کہ ’انڈیا پاکستان کے اندر، خصوصاً بلوچستان میں دراندازی میں ملوث ہے اور بعض اوقات وہ ہمارے برادر ملک ایران کی سرزمین کو بھی استعمال کرتا ہے۔ میری درخواست ہے کہ انھیں اس قسم کی سرگرمیوں سے روکا جائے تاکہ پاکستان استحکام کی جانب بڑھ سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہISPR
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ علاقائی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان اور دیگر اہم حکومتی عہدیداروں کے ساتھ دوطرفہ امور کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے پاکستان کی سرحد تک گیس پائپ لائن کی تعمیر کر لی ہے اور ہم پاکستان کو گیس کی فراہمی کے لیے تیار ہیں۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین معاشی تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور توانائی کے حوالے سے کئی معاہدوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ایران میں نوروز سے نئے سال کے آغاز کے بعد یہ ان کا پہلا غیرملکی دورہ ہے اور انھیں خوشی ہے کہ وہ پاکستان آئے ہیں۔
اس سے قبل آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اور ایرانی صدر نے علاقائی سلامتی، پاک ایران تعلقات اور سرحدی سکیورٹی اور روابط سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
سنیچر کو ہی اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے مشترکہ کاروباری فورم کا بھی اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور ایرانی کے صدر حسن روحانی نے بھی شرکت کی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات باہمی احترام ، مشترکہ ثقافت اور مذہب کی بنیاد پر قائم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے دہشت گردی اور توانائی کے چیلنجوں سے نمٹنا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشی انقلاب سے خطے میں بھی خوشحالی آئے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم علاقائی ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری تعمیر کر رہے ہیں۔‘
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’پاک ایران سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دے کر معاشی استحکام یقینی بنایا جا سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران گیس اور تیل کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔







