ڈی آئی خان میں فائرنگ سے شیعہ وکیل ہلاک

دو روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے درابن روڈ پر مفتی محمود ہسپتال کے قریب نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شیعہ ہیڈ کانسٹیبل اظہر حسین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندو روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے درابن روڈ پر مفتی محمود ہسپتال کے قریب نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شیعہ ہیڈ کانسٹیبل اظہر حسین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک شیعہ وکیل کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ منگل کو شہر کے گنجان آباد علاقے بازار توپانوالہ میں پیش آیا ہے۔

پولیس کے مطابق رضی الحسن شاہ ایڈووکیٹ امام بارگاہ حضرت عباس کے متولی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن تھے۔

منگل کی صبح بازار توپانوالہ میں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد ان پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہاں سے پولیس کا ایمرجنسی کنٹرول ون فائیو سے چند قدم ہی دور ہے۔

اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور بازار بند کر دیے گئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ برادری پر کیا جانے والا یہ پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے ایسے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

دو روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کے درابن روڈ پر مفتی محمود ہسپتال کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک شیعہ ہیڈ کانسٹیبل اظہر حسین کو ہلاک کر دیا تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں گذشتہ روز پیر کو ایران کے نئے سال نو روز کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

یہ واقعات صرف ڈیرہ اسماعیل خان ہی نہیں بلکہ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی تسلسل سے پیش آ رہے ہیں۔

پشاور میں جہاں تاجروں پر حملے ہوئے وہاں شیعہ رہنماوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔گذشتہ ماہ اندرون پشاور شہر کوہاٹی کے علاقے میں شیعہ رہنما افتخار علی شاہ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔