تین ہلاک، ڈی آئی خان میں کشیدگی

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دو مختلف واقعات میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں سمیت تین افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد شہر میں کشیدگی ہے۔
پولیس افسر سعیداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا واقعہ پیر کو ساڑھے گیارہ بجے شہر کے شمالی حصے میں گرڈ سٹیشن روڈ پر پیش آیا۔ اس واقعہ میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے دو بھائیوں کو ہلاک کیاگیا ہے۔ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کا تعلق اہل تشیع مسلک سے بتایا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں بھائی اپنی دوکان کے سامنے موجود تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس نے دونوں بھائیوں کی لاشیں سول ہسپتال پہنچا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے بھائیوں کے نام عظمت علی اور محمد علی ہیں۔
پولیس افسر نے بتایا کہ دوسرا واقعہ شہر کے اندر گلی باغ والی میں اس وقت پیش آیا جب دو نامعلوم سائیکل سواروں نے خودکار ہھتیاروں سے فائرنگ کرکے بخت ودہ نامی شخص کو ہلاک کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والا دین پور کا رہائشی تھا جن کا تعلق بھی اہل تشیع سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں بتایا کہ گزشتہ تین دنوں میں ایک دوسرے پر حملے میں چھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ایف سی اور پولیس کی نفری میں اضافہ کردیاگیا ہے اور ڈیرہ سرکلر روڈ پر پولیس کے گشت کے علاوہ اھم مقامات پر پولیس کے ناکے بھی موجود ہیں۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ شہر میں حالات چند دنوں سے کشیدہ معلوم ہورہے تھے اس کے بعد شہر سے باہر تمام تھانوں سے ایس ایچ او سیمت پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی تھی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارنہ ہلاکتوں میں اضافہ ایک ایسے موقع شروع ہوگیا ہے جہاں تین دن پہلے جعمیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں سُنی اور شیعہ مسلک کے عمائدین کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا تھا۔
امن معاہدے کے مطابق دونوں فرقوں کے نامزد ملزمان کو پولیس کے حوالے کیاجائےگا اور ملزمان کے حوالے سے کسی کی سفارش قابل قبول نہیں ہوگی۔ لیکن معاہدے کے چند گھنٹوں بعد نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاکت ہوا اور اس طرح ایک دوسرے پر حملے کا سلسلہ روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان فرقہ وارانہ فسادات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ ڈیرہ اسماعیل خان سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔گزشتہ چند مہینوں میں درجنوں خاندان ڈیرہ اسماعیل خان چھوڑ چکے ہیں۔اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل میں کاروباری زندگی بھی بہت متاثر ہوئی ہے۔اس قسم کے واقعات کے موقع پر شہر میں بازاریں مارکٹیں غیر اعلانیہ طورپر بند ہوجاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







