’سب سے بڑا غم بھائی کا اغوا‘

،تصویر کا ذریعہ
سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے پر سلمان تاثیر کے بیٹے آتش تاثیر کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے قتل کے بعد ان کے خاندان کا سب سے بڑا غم یہ ہے کہ ان کے مغوی بھائی کی رہائی اور واپسی کی کوئی خبر نہیں ہے۔
بی بی سی کے پروگرام ’نیوز ہاور‘ میں بات کرتے ہوئے ناول نگار آتش تاثیر کا کہنا تھا کہ ’ میرے بھای کو اسی سال (2011) اغوا کر لیا گیا تھا جب میرے والد کا قتل ہوا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے کیونکہ ہمیں اس بارے میں ملنے والے معلومات بہت کم ہیں۔‘
’ اب میرے بھائی کے اغوا کو اتنے سال گزر چکے ہیں کہ ان کا گھر واپس نہ آنا ہی ہمارے خاندان کا سب سے بڑا غم بن چکا ہے۔‘
سلمان تاثیر کے محافظ ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے حوالے سے آتش تاثیر کا کہنا تھا ’خون کے بدلے خون‘ پر کوئی خوشی نہیں منائی جا سکتی۔
’اگرچہ میرے والد کے قاتل کو پھانسی دینا اس لحاظ سے اطمینان بخش ہے کہ آخر کار قانون کا اطلاق ہوا، لیکن پھانسی کا دن اپنے اندر افسوس اور دکھ بھی لیے ہوئے تھا کیونکہ خون کے بدلے خون پر نہ تو غم ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی خوشی۔
جب آتش تاثیر سے پوچھا گیا کہ آیا انھیں یقین تھا کہ ایک دن ممتاز قادری کو پھانسی دے دی جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بہت غیر متوقع تھا کیونکہ ان کے خیال میں پاکستانی حکومت کبھی اس حوصلے کا مظاہرہ نہیں کر سکتی تھی۔
آکاش تاثیر کے مطابق ان کے والد کے قتل کی تفتیش کے معاملے میں پہلے دن سے ہی قانون کی حکمرانی کا لحاظ نہیں رکھا گیا تھا، بلکہ قانون کے اطلاق پر سمجھوتہ کر لیا گیا تھا۔
’وکلاء میرے والد کے قتل پر جشن منا رہے تھے، پھر متعلقہ جج کو ملک سے فرار ہونا پڑ گیا اور اس کے بعد ملک میں دہشتگردی میں اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک بات سکول کے بچوں کے بہیمانہ قتل تک جا پہنچی۔ ایسے واقعات کے ہوتے ہوئے یہی لگتا تھا کہ پاکستان میں قانون کے اطلاق کی ہر کوشش کو مسلسل پٹری سے اتارا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سوال کے جواب میں ان کے والد کے قاتل کو پھانسی دیے جانے کے پیچھے کیا عوامل کارفما تھے،آتش تاثیر کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ پاکستان میں ماحول کی تبدیلی تھی۔
سکول کے بچوں پر حملے کے بعد ’ہم نے دیکھا کہ پاکستانی فوج نے واقعی دہشتگردی کے خلاف جنگ شروع کر دی اور وہ دہشتگردوں کا مسلسل پیچھا کر رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب حکومت نے طے کر لیا ہے کہ دہشتگردی واقعی ایک حقیقی خطرہ ہے اور اگر حکمرانوں نے اس کا خاتمہ نہ کیا تو وہ خود بھی مارے جائیں گے۔‘







