سلمان تاثیر کی برسی کی تقریب پر حملہ کرنے والوں کو سزائیں

،تصویر کا ذریعہjupiter still
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے شہر لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر سول سوسائٹی کے مظاہرے پر حملے کرنے والے پانچ مجرمان کو سزا سنائی ہے۔
پیر کو لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ہارون لطیف خان نے <link type="page"><caption> سول سوسائیٹی پر حملے کے مقدمے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/01/150105_salman_taseer_vigil_attack_fir_rh.shtml" platform="highweb"/></link> کا فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرمان کو پانچ، پانچ سال جبکہ دو مجرمان کو تین تین سال قید کی سزا دی ہے۔ ان مجرمان پر 20،20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
جن مجرمان کو پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ان میں محمد عدیل، فرقان اور کاشف شامل ہیں جبکہ تین، تین سال قید کی سزا سنائے جانے والے مجرمان میں محمد افتخار اور وزیر علی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے رواں سال چار جنوری کو سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر لاہور کے لبرٹی چوک میں مظاہرہ کیا تھا۔ <link type="page"><caption> اس مظاہرے کے دوران مسلح افراد نے مظاہرین پر حملہ کیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/01/150104_salman_anniversary_sq.shtml" platform="highweb"/></link> اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
ان افراد نے سول سوسائٹی کے بینرز اور پلے کارڈ بھی پھاڑ دیے تھے۔
لاہور کے گلبرگ پولیس سٹیشن میں اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا گیا اور مجرمان کی شناخت میں اس واقعہ کی کوریج کرنے والے میڈیا کی فوٹیج سے مدد لی گئی۔
مقامی پولیس کے مطابق اس واقعہ میں ملوث افراد مذہنی رجحان رکھتے تھے۔ مقدمے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے ساجد محمود اور ادریس کو رہا کردیا گیا۔
گرفتار نہ ہونے والے ملزم ممتاز سندھی جنھیں عدالت نے اشتہاری قرار دیا تھا، کو چند روز قبل گرفتار کرنے کے بعد ان پر الگ مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجرمان کے وکیل نے اپنے موکلوں پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تشدد کرکے اُن سے اپنی مرضی کے بیان لیے ہیں جن کی قانونی شہادت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی ہے۔
واضح رہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کی ذاتی سکیورٹی پر تعینات پنجاب پولیس کے اہلکار ممتاز قادری نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مجرم ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائی ہے جس کے خلاف مجرم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔







