سزائے موت کے خلاف ممتاز قادری کی عدالتِ عظمیٰ میں اپیل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے پنجاب پولیس کے اہلکار نے ممتاز قادری نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نو مارچ کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف مجرم ممتاز قادری کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قتل کے مقدمے میں ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دی جانے والی موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا تھا۔
عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف مجرم ممتاز قادری کی طرف سے سپریم کورٹ میں یہ درخواست لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے دائر کی ہے۔
اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دیا جانے والہ فیصلہ آئین کے منافی ہے اس سے اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ قتل کا نہیں بلکہ اشتعال کا ہے اس لیے ان کے موکل کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے سیکشن تھری کے تحت کم سے کم سزا دی جائے۔
سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کی سلمان تاثیر سے کوئی ذاتی رنجش نہیں تھی اور چونکہ مقتول نے توہینِ رسالت کے قوانین کی مخالفت کی تھی اس لیے طیش میں آکر ممتاز قادری نے گورنر پنجاب پر فائرنگ کردی۔
واضح رہے کہ مجرم ممتاز قادری ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں انھوں نے 2011 میں اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو دارالحکومت اسلام آباد میں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔
سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں مجرم ممتاز قادری مجسٹریٹ کے سامنے یہ اقبالی بیان دے چکے ہیں کہ اُنھوں نے گورنر پنجاب کو قتل کیا ہے بعدازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اپیل میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُن سے اقبالی بیان ذبردستی لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







