’مجھے طالبان نے اغوا نہیں کیا‘: علی گیلانی کا ویڈیو پیغام

ویڈیو میں علی حیدر گیلانی نے اس گروپ کا نام نہیں لیا جس نے انھیں تحویل میں رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنویڈیو میں علی حیدر گیلانی نے اس گروپ کا نام نہیں لیا جس نے انھیں تحویل میں رکھا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو ملی ہے جس میں اُن کا کہنا ہے کہ اُنھیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے نہیں بلکہ ایک اور گروہ نے اغوا کیا ہے۔

علی حیدر گیلانی کے اغوا کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ویڈیو میں مغوی علی حیدر گیلانی نے اس گروپ کا نام نہیں لیا جن کی وہ تحویل میں ہیں۔

عام طور پر تاثر یہی رہا ہے کہ علی حیدر گیلانی کو طالبان نے اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔

اہلکار کے مطابق اس ویڈیو میں علی حیدر گیلانی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور اُن کے حلیے سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان پر خاصا تشدد کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں اغوا کاروں کو دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو ایک کمرے میں بنائی گئی ہے۔

وزارت داخلہ نے بھی ایسی ویڈیو کے ملنے کی تصدیق کی ہے۔

اہلکار کے مطابق اس ویڈیو میں علی حیدر گیلانی نے کہا ہے کہ اغوا کاروں نے تاوان مانگا ہے۔

اہلکار کے مطابق اس ویڈیو میں علی حیدر گیلانی نے اپنے خاندان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اُن کی رہائی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

یاد رہے کہ علی حیدر گیلانی کو گُذشتہ برس ملتان سے انتخابی مہم کے دوران اغوا کیا گیا تھا اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے آئی ایس آئی سے مدد مانگی تھی۔

حال ہی میں طالبان سے مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے طالبان کے 19 قیدیوں کی رہائی کے بعد طالبان کی نمائندہ ٹیم سے کہا گیا تھا کہ وہ ان کے بدلے میں علی حیدر گیلانی، سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل کو رہا کریں۔

علی حیدر گیلانی کے اغوا کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق اس ویڈیو سے پہلے شہباز تاثیر کی بھی دو ویڈیوز بھجوائی گئی تھیں جن میں اغوا کاروں کی جانب سے اُن کے اہل خانہ سے تاوان مانگا تھا۔

ذرائع کے مطابق علی گیلانی اور شہباز تاثیر کے اغوا کی تفتیش کرنے والی ٹیمیں ویڈیوز کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ ان دونوں واقعات میں ایک ہی گروپ ملوث ہے یا یہ دو الگ الگ گروپ ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران ایسے موقع پر اس ویڈیو کے جاری کرنے کا مقصد حکومت کی توجہ کسی دوسرے گروپ کی جانب مبذول کروانا ہو سکتا ہے۔