سلمان تاثیر کی پانچویں برسی پر لاہور میں تقریب

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سنہ 2011 میں اُن کے سرکاری محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا
،تصویر کا کیپشنسابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سنہ 2011 میں اُن کے سرکاری محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کی پانچویں برسی کے موقعے پر لاہور میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے لبرٹی چوک اورمال روڈ پر شمعیں روشن کیں۔

سابق گورنر کو2011 میں پنجاب پولیس سے تعلق رکھنے والے ان کے باڈی گارڈ ممتاز قادری نے اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

ان تقاریب کے شرکا نے شمعیں روشن کیں اور سابق گورنر کی تصاویر پر پھول نچھاور کیے۔

شرکا نے مطالبہ کیا کہ سلمان تاثیر کے قاتل کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ وہ سابق گورنر اور پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کا نشانہ بننے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

شرکا نے مطالبہ کیا کہ سلمان تاثیر کے قاتل کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے
،تصویر کا کیپشنشرکا نے مطالبہ کیا کہ سلمان تاثیر کے قاتل کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے

سلمان تاثیر ایک ایسے پاکستان کے حامی تھے جہاں مذہبی منافرت اور تشدد کے بجائے برداشت اور ہم آہنگی ہو۔

شرکا کاکہنا تھا کہ مذہب کے نام پر خون بہانا بند کیا جائے اور لوگوں کو امن دیا جائے جو اس ملک کے شہریوں کا بنیادی حق ہے۔

شرکا نے جو بینز اٹھا رکھے تھے ان پر ’طالبانائزیشن نامنظور، دہشت مکاو امن لاو، سلمان تاثیر کے قاتل کو سرعام پھانسی دو‘ جیسے نعرے درج تھے۔

لبرٹی چوک میں ہونے والی تقریب میں مرحوم گورنر کے خاندان کے افراد بھی شامل ہوئے۔

اس موقعے پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے اور اطراف کے راستوں کو بند کیا گیا تھا۔

گذشتہ برس لبرٹی چوک میں سلمان تاثیر کی یاد میں منعقد تقریب پر حملہ کیا گیا تھا۔حملہ آوروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور پانچ مجرموں کو تین سے پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔