’سلمان تاثیر قتل کیس فوجی عدالت میں نہیں بھیجا جا سکتا‘

سماعت کے دوران کمرہ عدالت ممتاز قادری کے حمایتی وکلا سے بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس درخواست کی سماعت کرنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کوریج اور جج صاحبان کے ریمارکس سننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسماعت کے دوران کمرہ عدالت ممتاز قادری کے حمایتی وکلا سے بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس درخواست کی سماعت کرنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کوریج اور جج صاحبان کے ریمارکس سننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم ممتاز قادری کی درخواست کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ کسی طور بھی فوجی عدالت میں نہیں بھیجا جائے گا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ یہ اپیل عدالت ہے اس لیے یہاں سے مقدمہ ٹرائل کورٹ میں نہیں بھیجا جا سکتا۔

مجرم ممتاز قادری کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے دلائل کے دوران ان تحفظات کا اظہار کیا کہ ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آئی ہیں کہ ان کے موکل کا مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جا رہا ہے۔

جسٹس نورالحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سلمان تاثیر کے ورثا خود اس مقدمے میں دلچسپی نہیں رکھتے اس لیے وہ اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس ضمن میں اُنھیں نوٹس جاری کر رکھا ہے اور اگر وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے تو پھر اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

خواجہ شریف نے اس مقدمے میں پیش ہونے والے 14 گواہوں کا بھی حوالہ دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ سلمان تاثیر نے ایک غیر مسلم سے بھی شادی کر رکھی تھی جن سے اُن کا ایک بیٹا آتش تاثیر بھی ہے۔

خواجہ شریف کے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران مقتول گورنر کے بیٹے شہریار تاثیر سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے آتش تاثیر کا نام تو سنا ہے لیکن اس سے زیادہ اس کے بارے میں نہیں جانتے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بہتر ہوگا کہ درخواست گزار اپنی درخواست پر ہی اپنے دلائل دے۔

خواجہ شریف نے کہا کہ اسلام آباد کے میجسٹریٹ نے اُن کے موکل سے بیان حلفی پر اقبالی بیان لیا جو کسی بھی طور پر جائز نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس سے پہلے کبھی بھی کسی ملزم سے بیان حلفی پر بیان نہیں لیا گیا۔

اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل میاں رؤف اس مقدمے میں بطور استغاثہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ بدھ سے اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس کی عدالت میں ہوگی۔

سماعت کے دوران کمرہ عدالت ممتاز قادری کے حمایتی وکلا سے بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس درخواست کی سماعت کرنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کوریج اور جج صاحبان کے ریمارکس سننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔