سلمان تاثیر کیس میں وفاق کو وکیل کی تلاش

،تصویر کا ذریعہjupiter still
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل کے تقرر کو حتمی قرار دینے کے لیے پانچ وکلا کے ناموں پر مشتمل ایک فہرست وزارت قانون کو بھجوا دی ہے جن میں سے ایک کا انتخاب کیا جائے گا۔
وزارت قانون کے ایک اہلکار کے مطابق اس ضمن میں وکلا کے ناموں کی ایک رپورٹ بھی موصول ہوگئی ہے تاہم اس بارے میں حمتی نام کا فیصلہ اعلیٰ حکام کریں گے۔
اہلکار کے مطابق اس فہرست میں تین وکلا کا تعلق لاہور سے، جبکہ دو کا راولپنڈی اور اسلام آباد سے ہے۔
اہلکار کے مطابق ایسے حساس مقدمات میں پیش ہونے والے سرکاری وکیل کو دوسرے مقدمات کی نسبت زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
اہلکار کے مطابق وفاقی حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل میاں رؤف کو اس مقدمے میں بطور استغاثہ نامزد کیا جائے۔ تاہم یہ فیصلہ میاں رؤف کی رضامندی سے مشروط کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل آفس نے اس مقدمے میں سرکاری وکیل بننے کے لیے متعدد وکلا سے رابطہ کیا تھا جن میں سے اکثریت نے یہ ذمہ داری سنبھالنے کے انکار کر دیا تھا۔
اس ضمن میں جب ایڈووکیٹ جنرل میاں رؤف سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے گورنر پنجاب کے قتل کے مقدمے میں کسی بھی شخص کا بطور سرکاری وکیل تقرر کرنے کے بارے کسی کا نام نہیں بتایا۔ البتہ اُن کا یہ کہنا تھا کہ منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران جو وکیل سرکار کی جانب سے پیش ہو گا اس کے بارے میں سب کو معلوم ہو جائے گا۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ممتاز قادری نے انسداد دہشت گردی کے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج میاں نذیر احمد مجرم ممتاز قادری کی درخواست کی پیروی کر رہے ہیں۔
اس درخواست کی گذشتہ سماعت کے دوران سرکار کی طرف سے پیش ہونے والے دو وکلا کی باڈی لینگویج سے بظاہر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس مقدمے کی پیروی کرنے سےگریزاں ہیں اور اسی لیے اُنھوں نے یہ معاملہ عدالت پر ڈالنے کی کوشش کی کہ اگر عدالت چاہے تو وہ کسی کو اس مقدمے میں سرکاری وکیل مقرر کر سکتی ہے۔
تاہم عدالت عالیہ نے یہ ذمہ داری یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ سرکاری وکیل کی تعیناتی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اُدھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ منگل کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران حفاظتی اقدامات کو سخت کریں اور کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو عدالت کے احاطے میں جانے کی اجازت نہ دیں۔







