’پریس کانفرنس یا سٹار پلس کا ڈراما‘

،تصویر کا ذریعہ File
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ایم کیو ایم کے سابق رہنما اور کراچی کے میئر مصطفیٰ کمال کی جانب سے لائیو پریس کانفرنس میں انکشافات پر تبصرے تجزیے ساتھ ہی ساتھ شروع ہو ئے جو شاید رات گئے تک جاری ہیں گے۔
تاہم سوشل میڈیا کے صارفین ان سارے انکشافات کو اتنی آسانی سے فیس ویلیو پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے اور ایک بڑی تعداد نے اس پیشرفت کے پسِ پردہ عوامل پر تبصرے کیے۔
ڈاکٹر فیصل رانجھا نے کی ’یہ پریس کانفرنس کم، سٹار پلس کا ڈراما زیادہ لگ رہا ہے صرف میوزک کی کمی ہے‘۔
دوسری جانب سمیع چوہدری نے ان انکشافات کی ٹائمنگ پر بات کی ’یہ خوب ہے کہ جب ظلم ہو رہا ہو تب طاقت و اختیار کے باوجود ذاتی مفاد کے لیے خاموش رہا جائے اور بعد ازاں انہی کی گواہیاں دے کر ہیرو بنا جائے۔‘
’بے وقت کا سچ دراصل جھوٹ سے کہیں زیادہ برا ہے۔‘
علی کامران چشتی نے لکھا کہ ’جو باتیں مصطفیٰ کمال کر رہے ہیں وہ نئی نہیں ہیں اور اس سے ملتی جلتی باتیں ایم کیو ایم کے رہنما ذاتی حیثیت میں کرتے رہے ہیں مگر مصطفیٰ کمال نے ایک جراتمندانہ قدم اٹھایا ہے۔‘
اینکر ماریہ میمن نے ٹویٹ کی کہ ’مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس: گلے، شکوے، آنسو، آہیں، سسکیاں اور مذہبی حوالہ جات۔۔۔۔‘
کالم نگار سرل المیڈانے لکھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ سوچتی ہو گی کہ آخر کیا وجہ ہے کے یہ را کے ساتھ تعلقات کے الزامات کراچی والوں کو اب اتنا غصہ کیوں نہیں دلاتے۔ ان لوگوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، حُب الوطنی کے جذبے سے عاری لوگ۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ ’مصطفیٰ کمال نے بنیادی طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ را کے میئر تھے۔ درست کہا نا؟‘
اینکر ثنا بُچہ نے کہا ’کیا ہم نے یہ سب دیکھا نہیں ہوا؟ ذوالفقار مرزا، جاوید ہاشمی اور اب مصطفیٰ کمال۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہMQM







