الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کے 25 رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے شہر کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین ، پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور کراچی کے لیے میئر شپ کے نامزد امیدوار وسیم اختر سمیت 25 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے منگل کو پولیس کی جانب سے مقدمات کا چالان پیش کرنے کے بعد حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو دو جنوری کو گرفتاری کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مذکورہ ملزمان مفرور ہیں اور جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، اس لیے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
پولیس رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر کے انھیں گرفتاری کر کے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ یاد رہے کہ سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی پہلے کی ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ سٹیل ٹاؤن، سکھن، ملیر کینٹ، سچل، بن قاسم اور سائٹ تھانے سمیت شہر میں ایک درجن سے زائد تھانوں پر ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین، پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، رشید گوڈیل، میئر کے نامزد امیدوار وسیم اختر، قمر منصور، ریحان ہاشمی، اور رؤف صدیقی سمیت 25 رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ان مقدمات میں الطاف حسین پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور دیگر رہنماؤں پر سہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد تنظیم کے سربراہ الطاف حسین نے رینجرز اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
الطاف حسین نے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ فوج سے گندے انڈوں کو نکالیں اور ان کے خلاف ایکشن لیں۔ لندن میں جلاوطن ایم کیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ رینجرز نائن زیرو پر چھاپے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔
اس تقریر کی بنیاد پر الطاف حسین اور ان کے پارٹی ذمہ داران کے خلاف کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں، صوبہ بلوچستان اور پنجاب میں بھی مقدمات دائر کیے گئے تھے۔
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے الطاف حسین کی تقریر کی میڈیا میں نشر و اشاعت پر پابندی میں 11 جنوری تک توسیع کر دی ہے، عدالت میں منگل کو الطاف حسین کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
الطاف حسین کے وکیل عاصمہ جہانگیر کا موقف تھا کہ یہ مقدمہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے۔ الطاف حسین اور ان کے ساتھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ آئندہ اس قسم کی زبان استعمال نہیں کی جائے گی، جس سے کسی ادارے یا شخص کی دل آزاری ہو۔ وفاقی اداروں کی جانب سے جوابات موصول نہ ہونے پر عدالت نے انھیں مہلت دیتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔







