فضل اللہ واحدی کی گمشدگی کی تحقیقات شروع

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد کی مقامی پولیس نے دارالحکومت سے لاپتہ ہونے والے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہرات کے سابق گورنر فضل اللہ واحدی کے مبینہ اغوا کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہرات کے سابق گورنر فضل اللہ واحدی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے جمعے کی رات لاپتہ ہوگئے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فضل اللہ واحدی کے اغوا کا پرچہ ان کے بھتیجے ذبیح اللہ کی مدعیت میں سنیچر کو تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا۔
ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ ان کے چچا کچھ عرصے سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں مقیم تھے۔
ان کے مطابق فضل اللہ واحدی جمعے کی شب اسلام آباد کے سیکٹر ایف 7 میں واقع رانا مارکیٹ کے قریب چہل قدمی کر رہے تھےکہ اس دوران نامعلوم افراد دو گاڑیوں میں آئے اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔
ذبیح اللہ کی جانب سے درج کرائے گئے پرچے میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم افراد جن دو گاڑیوں میں آئے تھے ان میں نے ’ایک پر نیلی بتی لگی ہوئی تھی‘۔
خیال رہے کہ صرف پولیس کی سرکاری گاڑیاں ہی یہ نیلی بتی لگانے کی مجاز ہیں جبکہ کوئی دوسرا سکیورٹی ادارہ یہ بتی استعمال نہیں کرتا۔
افغانستان کے سیاسی منظر نامی میں فضل اللہ واحدی کو ایک بااثر اور اہم شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ نومبر 2013 میں اسلام آباد کے مضافات میں ہی حقانی نیٹ ورک کے ایک اہم رہنما نصیرالدین حقانی کو بھی گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔







