نئے افغان سفیر کو جوابات کی تلاش

،تصویر کا ذریعہFacebook

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان اور افغانستان کے درمیان نرم گرم تعلقات کے موجودہ دور میں ایک نئی شخصیت نئے عزم اور ولولے کے ساتھ میدان میں کودی ہے۔

نام ہے ان کا حضرت عمر زخیلوال اور ان کی کوشش ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کیسے دائمی طور پر درست کیے جا سکتے ہیں۔ ایک تلخ تاریخ اور الزامات کی دائمی بوچھاڑ میں نئے افغان سفیر کیا کچھ حاصل کر پائیں گے؟

اسلام آباد میں حضرت عمر زخیلوال نے اسی ماہ بطور نئے افغان سفیر کے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں صدر ممنون حسین کو اپنی سفارتی اسناد پیش کرنے کا آتے ہی موقع مل گیا، ورنہ نئے سفیروں کو کئی کئی ماہ اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ شاید دونوں ممالک میں تعلقات بھی اس تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

افغان سفیر سے ناشتے پر گفتگو ہوئی جس میں افغان نان اور شیر و سبز چائے کی طرح ان کی باتیں بھی کئی الجھنیں دور کرنے کے لیے کافی تھیں۔ حضرت عمر نے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور ان کا تعلق مشرقی صوبے ننگرہار سے ہے۔

ننگرہار کے لوگ آج کل دوہری مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک طالبان اور دوسری داعش۔ افغانستان میں سب سے زیادہ سکیورٹی حالات میں بہتری کی ضرورت شاید انھی کو ہے۔

حضرت عمر افغانستان کے وزیر خزانہ اور سابق صدر حامد کرزئی کے چیف اقتصادی مشیر سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افغانستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

ان کی آمد سے اگر تعلقات میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے وہ ان کے طویل تاخیر کے کرغیزستان اور تاجکستان سے بجلی کی ترسیل کے کاسا 1000 منصوبے پر تمام ممالک کا اتفاق رائے قائم کرنے اور ماضی میں پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ منٹوں میں کروانا ہے۔

ایسے میں کیا وہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں کامیابی حاصل کر پائیں گے؟

کم از کم وہ پرامید ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ہوم ورک کر کے آئے ہیں۔ وہ افغانستان میں مصالحت کے لیے روڈ میپ تیار کرنے والے چار ملکی گروپ میں بھی شامل ہیں اور کہتے ہیں کہ نتائج کے لیے کافی پرامید ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے اپنے وفد کے ناموں کا تعین کر لیا ہے۔ ایک جانب بات چیت میں تیزی تو دوسری جانب طالبان کے حملوں میں بھی اضافہ جاری ہے۔ یہ حالات اس خطے کو امن کی جانب لے کر جاتے ہیں یا نہیں، اس کا جواب شاید اس وقت کسی کے پاس نہیں۔

حضرت عمر شاید انھی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے پاکستان آئے ہوئے ہیں۔