بنوں میں دکان میں دھماکہ، دو افراد ہلاک

یہ ضلع انتہائی حساس رہا ہے جہاں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار اکثر اوقات شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنیہ ضلع انتہائی حساس رہا ہے جہاں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار اکثر اوقات شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک دکان میں ہونے والے بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بنوں پولیس کے مطابق یہ دھماکہ پیر کی صبح تقریباً ساڑھے سات بجے بنوں شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور نواہی علاقے ناوید میں ہوا۔

بنوں پولیس کے ایک اہلکار اسحاق علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ گاڑیوں کی پنکچر لگانے والی ایک دکان میں اس وقت ہوا جب دکان کے مالک تالا کھول کر شٹر اٹھا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکہ خیز مواد دکان کی دیوار کے ساتھ نصب کیا گیا تھا۔

مرنے والوں میں دکان کے مالک اور ایک راہگیر شامل ہیں تاہم اس حملے کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی۔

پولیس اہلکار کے مطابق دکان کے مالک کی کسی سے کوئی دشمنی یا تنازع نہیں تھا۔

یاد رہے کہ جس علاقے میں دھماکہ ہوا ہے وہ نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر جانی خیل کے قریب واقع ہے جہاں پہلے بھی بم دھماکے اور خودکش حملے ہوتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ضلع بنوں کی حدود قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور نیم خودمختار قبائلی علاقے ایف آر بنوں سے ملی ہوئی ہے۔

قبائلی علاقے سے متصل ہونے کی وجہ سے یہ ضلع انتہائی حساس رہا ہے جہاں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار اکثر اوقات شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔