بنوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈاکٹر ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے بنوں میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک ڈاکٹر کو ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر محمد یوسف اپنے گھر سے کلینک کی جانب جا رہے تھے۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عنایت علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ بظاہر اس قتل کے مقاصد واضح نہیں ہیں لیکن اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ صبح ڈاکٹر محمد یوسف اپنے کلینک کی جانب پیدل جا رہے تھے کہ ہسپتال کے قریب نا معلوم موٹر سائکل سواروں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر محمد یوسف نے روس سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی اور اپنے الٹرا ساؤنڈ کلینک چلاتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنوں میں کچھ عرصے سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ جمعیت علماء اسلام کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی کے قافلے کے قریب دھماکہ ہوا تھا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے لیکن قافلے میں شامل دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کربے والوں کی بڑی تعداد بنوں میں رہائش پذیر ہے۔
خیبر پختونخوا میں کسی ڈاکٹر پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے گذشتہ ماہ پشاور میں ایک ڈاکٹر کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا جبکہ اس کے قتل میں ملوث دو ملزم گرفتار کیے جا چکے ہیں اسی طرح دو ماہ قبل صوابی میں انسداد پولیو مہم کے کوارڈینیٹر ڈاکٹر یعقوب کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔
پاکستان میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چودہ برسوں میں پچاس ڈاکٹروں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ گذشتہ سال پانچ ڈاکٹروں کو مارا گیا ہے۔







