پشاور حملے میں ڈی ایس پی بہادر خان ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی بہادر خان ہلاک ہوگئے ہیں۔
گلبہار تھانے میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ صبح ساڑھے سات بجےگلبہار تھانے کی حدود میں نشتر آباد لارا میں پیش آیا۔
تھانہ گلبہار کے ایڈیشنل ایس ایچ او سرتاج خان نے بتایا کہ بہادر خان اپنی بیٹی کو کالج چھوڑنے جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے انھیں گاڑی روکنے کا اشارہ کیا اور ان پر فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ طبی امداد ملنے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے۔
تاہم اس حملے میں ان کی بیٹی محفوظ رہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ڈی ایس پی بہادر خان کا گھر صفدر ٹاؤن میں موجود ہے اور وہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی فورس میں تعینات تھے۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے ڈی ایس پی بہادر خان کے قتل پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو چاہیے کہ ایسے دہشت گردوں کا زمین کے اندر تک پیچھا کریں اور ان سے اپنے ساتھیوں کا بدلہ لیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق بدھ کو پولیس لائن پشاور میں بہادر خان کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ فوج اور پولیس اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک و قوم کی خاطر وہ لازوال قربانیاں دی ہیں جسے کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

،تصویر کا ذریعہKPK Police
سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ ’میں نے آئی جی پولیس کو بتا دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہےکہ ہمیں تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایسے دہشت گردوں کا زمین کے اندر تک پیچھا کرنا چاہیے جو ہمارے فورسز کے بہادر جوانوں پر حملوں میں ملوث ہیں اور ان سے ایک ایک اہلکار کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے ۔‘
اس موقع پر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ہونے والے سرچ اینڈ سٹرائیک کاروائیوں میں پولیس نے سینکڑوں دہشت گردوں کوگرفتار کیا گیا ہے جس کے ردعمل میں شدت پسندوں کی طرف سے کاروائیاں متوقع تھیں۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔







