کراچی حملے میں ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں جمعہ کی صبح نامعلوم افراد فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی فتح سانگڑی سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
کراچی کےعلاقے گلشن حدید میں میں باٹا موڑ کے نزدیک اس علاقے کے ڈی ایس پی فتح محمد سانگری سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے
تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے کراچی میں ڈی ایس پی اور اس کے ساتھیوں کو ٹارگٹ کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ایس ایس پی ضلع شرقی پیر محمد شاہ جنہیں گزشتہ رات ہی کو ضلع ملیئر کا اضافی چارج بھی دیاگیا تھا انہوں نے بتایا کہ ڈی ایس پی فتح محمد سانگری صبح نو بجے اپنے گھر سے سرکاری گاڑی میں ڈرائیور اور گارڈ کے ساتھ معمول کی گشت پر نکلے تھے۔
ساڑھے نو بجےگلشنِ حدید میں باٹا موڑ کے قریب ایک بازار کے بیچ جب ان کی گاڑی ایک سپیڈ بریکر پر آہستہ ہوئی تو چار افراد نے جو شاید کہیں قریب ہی تاک میں تھے گاڑی پر گولیوں کی پوچھاڑ کردی۔
اس حملے میں گن میں محمد فاروق کو سولہ گولیاں اور ڈرائیور نذیر احمد کو نو گولیاں لگیں۔جبکہ ڈی ایس پی فتح محمد سانگری کو سات گولیاں لگیں۔
ایس ایس پی پی محمد شاہ کے مطابق عینی شاہدین نے انہیں بتایا ہے کہ حملہ آور دو سے تین منٹ تک مسلسل فائرنگ کرتے رہے اور اس کے بعد پیدل ہی وہاں سے گلیوں میں فرار ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آور اس بات کا مکمل یقین کرنا چاہتے تھے کہ تینوں پولیس اہلکار موقع ہی پر ہلاک ہوجائیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں جائے واردات سے نائن ایم ایم پستول کے 27 خول ملے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی محمد شاہ نے مزید کہا کہ کراچی میں ماضی میں پولیس پر ہونے والے حملوں اور اس حملے میں فرق یہ ہے کہ اس سے پہلے ہونے والے حملوں میں پولیس اہلکاروں پر ایک یا دو گولیاں چلائی جاتی تھی اور حملہ آور فوراَ َ ہی وہاں سے بھاگ جاتا تھا۔ تاہم یہ واردات انتہائی سکون سے کی گئی ہے اور حملہ آوار جاتے ہوئے سرکاری کلاشنکوف بھی جو گن میں کے پاس تھی اپنے ساتھ لے گئے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے محرکات کا بہت باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اُس علاقے عموماً اس طرح کے واقعات کی کوئی تاریخ نہیں ہے اور یہ علاقہ ایسا ہے جہاں تقریباً ہر زبان بولنے والا شخص رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات آگے بڑھیں گی تو مزید شواہد سامنے آئیں گے۔
فتح محمد بِن قاسم سب ڈویژن کے ڈی ایس پی تھے۔







