’کراچی میں مقابلہ، تحریکِ طالبان کے چھ دہشت گرد ہلاک‘

کراچی میں جاری آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکراچی میں جاری آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولیس نے ایک کارروائی میں تحریکِ طالبان سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی سنیچر کو سہراب گوٹھ کے علاقے گلشنِ سعدی ٹاؤن میں کی گئی۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاعات پر یہ آپریشن کیا جس میں 250 سے زیادہ اہلکاروں نے حصہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے چھ افراد کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ملا فضل اللہ گروپ سے ہے۔

راؤ انوار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرنے والوں میں اس گروپ کا ایک اہم کمانڈر احمد بھی شامل ہے جو وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں زخمی ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ زخمی ہونے کے بعد احمد کراچی میں زیرِ علاج بھی رہا اور آج کی کارروائی میں مارا گیا۔

 کراچی میں رینجرز اور پولیس شہر کے مختلف علاقوں اور مضافات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن کراچی میں رینجرز اور پولیس شہر کے مختلف علاقوں اور مضافات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے رہے ہیں

پولیس نے اس مبینہ مقابلے میں ہلاک شدگان کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

کراچی میں جاری آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھی رینجرز نے کیماڑی کے علاقے میں تحریکِ طالبان کے ہی پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس حملے کے بعد کراچی میں مقیم ایک امریکی نژاد استاد پر حملہ بھی ہوا تھا اور حملہ آوروں نے اسے اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ کراچی میں رینجرز اور پولیس شہر کے مختلف علاقوں اور مضافات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔