بنوں:چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد کا حملہ، سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک

سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے نیم قبائلی علاقے بنوں میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک جبکہ تین شدت پسند مارے گئے ہیں۔

یہ حملہ جمعرات کی صبح اُس وقت ہوا جب نامعلوم مسلح افراد نے بنوں کی خادم حسین چیک پوسٹ پر دھوا بولا۔

مقامی ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس سے وہاں تعینات دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔

سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے اور جوابی کارروائی میں تین مسلح حملہ آور ہلاک جبکہ باقی فرار ہو گئے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آور گاڑی میں سوار تھے۔

سرکاری سطح پر اس حملے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ نہ ہی ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

نیم قبائلی علاقے بنوں میں اس سے قبل بھی متعدد پر پرتشدد واقعات ہوئے ہیں۔ایف آر بنوں کی سرحد قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملتی ہے۔

گذشتہ سال جون سے فوج نے شمالی وزیرستان میں سرگرم عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کر رکھا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ تاہم ایجنسی کے دور افتادہ پاک افغان سرحدی علاقوں دتہ خیل اور شوال میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔