میٹرو منصوبہ:’تاریخی عمارتوں کے قریب تعمیر روکنے کا حکم‘

،تصویر کا ذریعہReuters

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے راستے میں آنے والی 11 تاریخی عمارتوں کے دو سو فٹ احاطے میں تعمیر روک دی ہے۔

اورنج لائن میٹرو کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم نے کی۔

بدھ کو سماعت میں عدالت نے منصوبے کی زد میں آنے والی تاریخی کے بارے میں محکمہ آثار قدیمہ کا این او سی طلب کیا تھا۔

لاہور میں میٹرو منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنلاہور میں میٹرو منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں

سرکاری وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے لیکن اگر منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہوگئی تو بین الاقوامی سطح پر ملک کا نقصان ہوگا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے این او سی جاری کرتے وقت کیا پرائیویٹ تجربہ کار لوگوں کو ساتھ شامل کیا تھا اور یہ کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل اظہرصدیق نے عدالت کو بتایا کہ ’محکمہ اثار قدیمہ کے سابق ڈائریکٹر کو پانچ عمارتوں کا این او سی جاری نہ کرنے پر تبدیل کر دیا گیاجبکہ دیگر چھ عمارتوں کا این او سی چیف سیکریٹری سے لیاگیا۔ ‘

عدالت دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد شالامار باغ، گلابی باغ، بدھو مقبرہ، چوبرجی، زیب النسا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جنرل پوسٹ آفس، سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگِ ایوان اوقاف، سینٹ اینڈریو چرچ اور بابا موج دریا دربار اور مسجد کے اطراف میں دو سو فٹ کے فاصلے تک کسی قسم کی تعمیر روکنے کا حکم جاری کر دیا۔